اتحاد
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
گر اس نے جو کچھ کہا وہ ہو کر رہا (فلم یقتل شیئا الاکان) پھر اللہ نے ہمارے دلوں میں اس کی تصدیق ڈالی۔ ہم اس کے پیرو بن گئے۔ اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ ہم سے وعدہ کیا ہے کہ ہم میں سے جو مارا جائے وہ جنت میں جائے گا اور جو باقی رہے گا اس کو مخالفین کے مقابلہ میں اللہ کی مدد حاصل ہوگی۔ یزدگرد نے خفا ہو کر اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ ایک ٹوکرامٹی لاڈ اور ان میں جو سب سے زیادہ شریف ہو اس کے سر پر رکھ کر اس کو بھیگا کر وہاں تک کہ وہ مدائن کی سرزمین سے باہر نکل جائیں۔ انہوں نے یحییٰ عاصم بن عمرو کے سر پر رکھ دی۔ وہ اس کو لے کر ایرانی دربار سے نکلے اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر اپنے سردار سعد بن ابی وقاص تک پہنچ گئے۔ سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو انھوں نے کہا: البشر وانقل داللہ اعطا نا اللہ مقالید ملکهم خوش ہو جاؤ۔ خدا کی قسم اللہ نے ان کے ملک کی (تفتاتلوا بذلک اخذ هم بلادهم) البدایۃ والنہایۃ جلد ۴ صفحہ ۴۱ کنجیاں ہم کو دے دیں۔ حق کی مخالفت کرنے والوں کے دل میں مرعوبیت ڈال دی جاتی ہے جنگ یرموک کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ جرجہ نام کا ایرانی سردار اپنے لشکر سے باہر آیا اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ خالد بن ولید رضی نکلے اور جرجہ کے اتنے قریب پہنچ گئے کہ دونوں کے گھوڑوں کی گردنیں مل گئیں۔ جرجہ نے کہا اے خالد! مجھے بتاؤ اور بالکل سچ بولو۔ کیونکہ آزاد آدمی جھوٹ نہیں بولتا۔ کیا اللہ نے تمھارے پیغمبر پر آسمان سے کوئی تلوار اتاری ہے اور وہ تلوار انھوں نے تم کو دے دی ہے۔ اب تم جس کے اوپر بھی حملہ کرتے ہو اس کو شکست دے دیتے ہو۔ خالد رض نے کہا نہیں۔ جرجہ نے کہا پھر تم کو سیف اللہ کیوں کہا جاتا ہے۔ خالد رض نے کہا: اللہ نے ہمارے درمیان اپنا پیغمبر بھیجا۔ ہم میں سے کچھ لوگوں نے اس کو مانا، کچھ نے جھٹلایا۔ میں جھٹلانے والوں میں تھا۔ پھر اللہ نے ہمارے دلوں اور پیشانیوں کو اپنی گرفت میں لے لیا، ہم کو ہدایت دی اور ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی: فقال لى انت سيف من سيوف الله سلله - / رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بابت فرمایا کہ تم اللہ الله على المشركين دد عالی بالنصر کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہو جس کو اللہ نے مشرکین کے فسَمیتُ سیف اللہ بذلک (البدایۃ والنہایۃ) اوپر نکالا ہے اور آپ نے میرے لئے نصرت کی دعا فرمائی۔ اس وقت سے میرا نام سیف اللہ پڑ گیا ۔ بندوں کی مدد کرنے والا کبھی خدا کی مدد سے محروم نہیں ہوتا ۱۱۰ ء کی ایک شب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں تھے۔ خدا کا فرشتہ آیا اور کہا کہ "پڑھو"۔ آپ نے جواب دیا ما انا بقادی (میں پڑھا نہیں ہوں) آپ فرماتے ہیں کہ فرشتہ نے مجھ کو پکڑا اور دبایا۔ یہاں تک کہ اس کا دباؤ میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا "پڑھ" میں نے پھر کہا کہ میں پڑھا نہیں ہوں، اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ اس طرح دبوچا کہ اس کا دبوچنا میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا۔ پھر اس نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader