Urdu book · اسلامی زندگی

اتحاد

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

ان سے عہد لے لیں۔ تاکہ وہ ہم سے رک جائیں اور ہم ان سے رک جائیں۔ وہ ہم کو ہمارے دین پر چھوڑ دیں اور ہم ان کو ان کے دین پر چھوڑ دیں۔ ابو طالب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور کہا کہ اے میرے بھتیجے! یہ قوم کے سردار ہیں۔ یہاں آئے ہیں تاکہ تم کو کچھ تول دیں اور تم سے کچھ تول لیں۔ تو تم ان سے کیا چاہتے ہو۔ آپ نے فرمایا : تم لوگ میری ایک بات مان لو۔ اس سے تم عرب کے مالک بن جاؤ گے اور عجم تمہارے مطیع ہو جائیں گے۔ کلمۃ واحدۃ تعطونهاتملكون بها العرب و تدین لكم بها العجم (البدایہ والنہایہ) ابو جہل نے کہا، تمھارے باپ کی قسم ہم دس بات کے لئے تیار ہیں۔ آپ نے فرمایا : "لا الہ الا اللہ کا اقرار کرو، اللہ کے سوا جن کی پرستش کرتے ہو ان کو نکال پھینکو۔ یہ سن کر انھوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے؛ کیا ہم تمام معبودوں کو چھوڑ کر ایک معبود کی پرستش کریں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہوگی۔ یہ شخص تم کو کچھ دینے والا نہیں۔ چلو اپنے دین پر قائم رہو یہاں تک کہ اللہ تمھارے اور اس کے درمیان کوئی فیصلہ کر دے۔ جاندار افراد ہوں تو تھوڑے بھی بہت ہیں ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار ساتھی بہترین ساتھی ہیں۔ دعوتی گروہ کے لئے چار سو کی تعداد بہترین تعداد ہے۔ بہترین شکر چار ہزار کا شکر ہے۔ اور اگر بارہ ہزار آدمی ہوں تو وہ محض قلت کی وجہ سے کبھی مغلوب نہیں ہوسکتے۔ یعنی وہ ہاریں گے تو اس کی وجہ قلت نہیں ہوگی، کوئی اور ہوگی (خیر الصحابة اربعة وخير السرايا اربع مأة وخير الجيوش اربعة آلاف ولن يغلب اثنا عشر الفامن قلة، رياض الصالحين ٩٥٨) دشمن کے خلاف کامیاب کارروائی کے لئے پردہ داری ضروری ہے قریش نے معاہدہ حدیبیہ کی خلاف ورزی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کی تیاری میں مصروف ہو گئے : امر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الناس بالجھاز و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سفر کی تیاری کا حکم امر اھله ان یجهزوا و دخل ابو بکر علی ابنته دیا اور اپنے اہل خانہ سے کہا کہ وہ آپ کا سامان سفر عائشة رضى الله عنها وهي تخراث بعض جھاز رسول درست کریں۔ پھر حضرت ابو بکر کا اپنی صاحب زادی حضرت اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال اى بنية اامركم عائشہ کے یہاں آئے اور وہ آپ کے سامان سفر کی تیاری رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تجهزواه میں مشغول تھیں۔ انھوں نے کہا اے میری بیٹی کیا تم کورسول قالت فاين ترسينه يريد قالت والله اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان سفر تیار کرنے کا حکم دیا ہے لا ادرى حضرت عائشہ نے کہا ہاں۔ انھوں نے پوچھا تمھارا کیا خیال (سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۴۱) ہے۔ آپ کہاں کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے کہا خدا کی قسم مجھے نہیں معلوم۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page