Urdu book · اسلامی زندگی

اتحاد

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

تین سو کی تعداد اور فیصلہ کن ہے قریش میں ایک شخص جمیل بن معمر جمحی تھا۔ اس کو باتیں پھیلانے سے بہت دل چسپی تھی، اس کو معلوم ہوا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ہے تو اس نے بیت اللہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا: الا ان ابن الخطاب قد صبا (سنو خطاب کا لڑکا بے دین ہو گیا) قریش اس وقت کعبہ کے گرد اپنی مجلسوں میں تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب دیا: کذب و لکنی قد اسلمت وشهدت ان لا اله الا الله و محمد رسول اللہ (اس نے جھوٹ کہا۔ بلکہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں) اس کے بعد لوگ ان کے اوپر جھپٹ پڑے۔ وہ ان سے لڑتے رہے یہاں تک کہ سورج سر پر آگیا۔ دونوں تھک کر بیٹھ گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: افعلوا ما بد لکم فاحلفت بالله ان لو قد كنا جو تمھارے جی میں آئے کر دو۔ میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر ہم ثلاث مائة رجل لقد تمكنا مالكم مسلمان تین سو ہو جائیں تو ہمت ہو جائیں تو پھر اس سرزمین کو یا ہم تمھارے لئے او ترکتموها لنا (البدایه والنهایه، جلد ۳) چھوڑ دیں گے یا تم اس کو ہمارے لئے چھوڑ دو گے اسلام ان کے لئے طاقت بن گیا نبوت کے پانچویں سال مسلمانوں نے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ مکہ والوں کے مظالم سے تنگ آکر تقریباً اسی آدمی مختلف ٹولیوں میں حبشہ گئے۔ ان کے سردار جعفر بن ابی طالب تھے۔ قریش نے اپنا ایک وفد بھیج کر کوشش کی کہ حباشی ان مہاجرین کو ان کے حوالے کر دے۔ مگر شاہ حبشہ (نجاشی) نے اس سے انکار کر دیا۔ وہ مسلمانوں کی باتوں اور ان کے طرز عمل سے اتنا خوش ہوا کہ اس نے ان سے کہا: تم لوگ ہمارے ملک میں سیوم (مادمون) ہو۔ جو تم کو برا کہے اس سے جرمانہ لیا جائے گا، جو تم کو برا کہے اس سے جرمانہ لیا جائے گا۔ میں پھر کہتا ہوں کہ جو تم کو برا کہے اس سے جرمانہ لیا جائے گا۔ پہاڑ کے برابر سونا ملے تب بھی میں تم میں سے کسی پر زیادتی نہیں کروں گا۔ تم ہمارے ملک میں جب تک چاہے رہو۔“ اس نے مسلمانوں کو کھانا اور کپڑا دیئے جانے کا حکم دیا۔ پھر اس نے پوچھا ”کیا تم لوگوں کو کوئی ستاتا ہے؟“ مسلمانوں نے کہا ہاں۔ نجاشی نے منادی کرائی کہ جس نے مسلمانوں میں سے کسی کو ستایا یا تو ستانے والا اس مسلمان کو چار درہم جرمانہ دے۔ پھر مسلمانوں سے پوچھا کیا یہ کافی ہے۔ انھوں نے کہا نہیں۔ اس کے بعد اس نے جرمانہ کی رقم گنی کر دی۔ ہجرت مدینہ کے بعد جب یہ مسلمان حبشہ سے واپس ہوئے تو نجاشی نے ان کو سواری اور زاد راہ دے کر رخصت کیا۔ موحد کے لئے دنیا میں سربلندی کا وعدہ ہے نبوت کے بعد تقریباً دس سال تک ابو طالب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سرپرست تھے۔ ابو طالب جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو قریش کے سرداروں کی ایک جماعت ان کے گرد جمع ہوئی۔ ان میں ابو جہل بن ہشام، ابوسفیان بن حرب، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف وغیرہ تھے۔ ان لوگوں نے ابو طالب سے کہا: آپ کا ہمارے درمیان جو مقام ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page