Urdu book · اسلامی زندگی

معاش

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

محنت کی کمائی سب سے بہتر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا ۔ اے خدا کے رسول ، سب سے بہتر کمائی کون سی ہے ۔ آپ نے جواب دیا : ہاتھ کی کمائی (عمل الید) کمانے والا اپنے کو افضل نہ سمجھے انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ایک بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتا تھا اور دوسرا بھائی گھر کے لیے کمائی کرتا تھا۔ کمائی کرنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی (کہ وہ کام نہیں کرتا، مجھ کو تنہا دونوں کے لیے کمانا پڑتا ہے) آپ نے فرمایا : شاید تم کو روزی اسی کے سبب سے ملتی ہو (لعلاٹ ترزق به، ریاض الصالحین صفحه ۳۵) کسی کی مدد کے لئے دوڑنا بہت بڑی عبادت ہے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مدینہ کی مسجد نبوی میں معکف تھے۔ ایک شخص آکر آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کے چہرہ پر پریشانی کے آثار دیکھ کر آپ نے اس سے پریشانی کا سبب پوچھا۔ اس نے جواب دیا : فلاں آدمی کا قرض میرے اوپر ہے۔ اور اس قبر والے کی حرمت کی قسم، میں وہ قرض ادا کرنے پر قادر نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا، پھر کیا میں اس قرض خواہ سے بات کروں۔ آدمی نے کہا ضرور۔ آپ فوراً مسجد سے نکل کر چلنے لگے ۔ آدمی نے کہا، آپ تو اعتکاف میں ہیں، کیا آپ بھول گئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا نہیں، میں بھولا نہیں ہوں۔ بلکہ میں نے اس قبر والے (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا ہے، اور یہ ابھی گویا کل کی بات ہے، یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، کہ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت کے لئے چلے اور اس میں پوری کوشش کرے تو اس کا یہ عمل دس سال اعتکاف کرنے سے بہتر ہے (من مشی فی حاجة اخیہ بلغ فيها كان خيرا من اعتکاف عشر سنین، بیہقی) اللہ پر بھروسہ سب سے بڑی طاقت ہے اسلاف میں سے بعض بزرگوں نے فرمایا : جو یہ خوشی حاصل کرنا چاہے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ قوی بن جائے تو اس کو چاہئے کہ وہ اللہ پر بھروسہ کرے (من سرہ ان يكون اقوى الناس فليتوكل على الله) ایمان داری کے ساتھ شرکت کرنے والوں کا ساتھی خدا ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب دو آدمی مل کر کام کرتے ہیں تو میں ان دو کا تیسرا ہوتا ہوں جب تک ان میں سے کوئی خیانت نہ کرے۔ پھر جب ان میں سے کوئی خیانت کرے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں اور اس کے بعد وہاں شیطان آجاتا ہے۔ نیچے والوں کی ضرورت اوپر والوں تک پہنچاؤ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے حاکم تک ایسے شخص کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page