Urdu book · اسلامی زندگی

معاش

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

ضرورت پہنچا دی جو خود نہیں پہنچا سکتا تھا، اللہ تعالیٰ پل صراط پر اس کو ثابت قدم رکھیں گے جب کہ لوگوں کے قدم ڈگمگاجائیں گے (من ابلغ ذا سلطان حاجة من لا يستطيع ابلاغه ثبت الله قدمه على الصراط يوم تزل الاقدام، رزين ودینار) دینے والے کو دیا جاتا ہے ایک حدیث قدسی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم، خرچ کرو تو تمھارے اوپر خرچ کیا جائے گا (انفق یا ابن آدم ينفق عليك، رواہ البخاری ومسلم) سب سے زیادہ ضرورت کے وقت سب سے زیادہ بے سہارا حضرت عمر نے ایک روز کہا کہ رات میں نے ایک ایسی آیت پڑھی جس نے ساری رات مجھے سونے نہیں دیا: ايود احدکم ان تكون له جنة من نخيل واعناب . . . . بقره - ۲۶۶ آپ نے لوگوں سے پوچھا، اس کا مطلب کیا ہے، کسی کے لیے محض کھجوروں اور انگوروں کی مثال تھی کسی کے نزدیک یہ ایک پُر اسرار آیت تھی جس کے لیے صرف اللہ اعلم کہنا کافی ہو۔ مجلس میں حضرت عبداللہ بن مسعود بھی تھے جو چپکے چپکے کچھ کہہ رہے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا اے میرے بھتیجے! کہو اور اپنے کو حقیر نہ سمجھو۔ انھوں نے کہا اس سے عمل مراد لیا گیا ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا کیسے ۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا: ایک چیز میرے دل میں القا کی گئی اور میں نے کہہ دیا (شيئ القى فى روعى نقلته) حضرت عمر نے کہا، اے میرے بھتیجے تو نے سچ کہا: عنی بها العمل ابن آدم انفقر ما يكون الى جنة اس آیت میں جو مثال دی گئی ہے، اس سے عمل مراد اذا كبر سنه وکثرت عیاله د ابن آدم انفقر ما ہے۔ انسان اس وقت باغ کا زیادہ محتاج ہوتا ہے جب اس کی عمر بڑی ہو جائے اور اولاد زیادہ ہو جائے۔ اور انسان اپنے عمل کا زیادہ محتاج ہوگا قیامت کے دن سب سے بڑا صدقہ وہ ہے جو سب سے کمزور پر کیا جائے حضرت سراقہ بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سے فرمایا: کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ سب سے بڑا صدقہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا ضر ور بتائیے ۔ آپ نے فرمایا: اپنی اس لڑکی کے ساتھ سلوک کرنا جو بیوہ یا مطلقہ ہونے کی وجہ سے تمھاری طرف لوٹادی جائے اور جس کے لیے کمانے والا تمھارے سوا کوئی نہ ہو ( ابنتك مردودة اليك ليس لها كاسب غيرك ، ابن ماجہ) دنیا کو بے حقیقت سمجھنا سب سے بڑی عقلمندی ہے امام شافعی نے فرمایا: اگر کوئی شخص یہ وصیت کرے کہ مرنے کے بعد میرا مال سب سے زیادہ سمجھ دار آدمی (اعقل الناس) کو دیا جائے تو مرنے کے بعد اس کا مال اس شخص کو دینا چاہئے جو دنیا کے معاملہ میں سب سے زیادہ زاہد ہو (تنبیہ المغترین للشعرانی)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page