دعوت
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کس پیغام کے ساتھ بھیجے گئے ابو مجمع عمروبن عیسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسلام سے پہلے بھی میرا یہ احساس تھا کہ لوگ گمراہی پر ہیں۔ بتوں کی پرستش جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اس کی کچھ بھی حقیقت نہیں ہے۔ پھر میں نے سنا کہ مکہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے جو آسمانی باتیں بتاتا ہے۔ میں اپنی سواری پر بیٹھ کر وہاں پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپ کر تبلیغ کرتے ہیں اور آپ کی قوم آپ پر بہت جری ہوگئی ہے۔ مکہ میں جب میں آپ سے ملاقات میں کامیاب ہو گیا تو میں نے پوچھا: ما انت آپ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا۔ انا نبی (میں نبی ہوں) میں نے پوچھا نبی کس کو کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھ کو اللہ نے بھیجا ہے۔ میں نے پوچھا کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا: ارسلنی بصلة الارحام وکسر الاوثان مجھ کو اس پیغام کے ساتھ بھیجا ہے کہ رشتوں کو جوڑا جائے وان توحد اللہ لا یشرک بہ شیئ (مسلم) اور بتوں کو توڑا جائے۔ اور اللہ کو ایک سمجھا جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ نصیحت عمومی انداز میں عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کے بارے میں کوئی ایسی بات معلوم ہوتی جو آپ کو ناگوار ہو تو آپ یہ نہ کہتے کہ " فلاں شخص کو کیا ہو گیا ہے کہ اس نے ایسا کہا “ بلکہ یوں فرماتے: ما بال اقوام يصنعون او يقولون كذا لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں یا ایسا کہتے ہیں ۔ اس طرح عمومی انداز میں روکتے۔ مگر کسی کا نام نہ لیتے۔ (کتاب الشفاء از قاضی عیاض، صفحہ ۸۹) وہ لوگوں کے اسلام کے سب سے زیادہ حریص تھے حضرت عبداللہ ابن عباس قرآن کے بہت بڑے عالم تھے۔ قرآنی مضامین کی گہرائیوں تک پہنچنے کی ان کے اندر غیر معمولی صلاحیت تھی۔ ایک بار انھوں نے سورہ بقرہ کی تفسیر اپنے مخصوص انداز میں بیان کی۔ اس کو سن کر حاضرین میں سے ایک شخص بول اٹھا: لو سمع هذا البيلّم لا سلمت (ر دیلم کے کفار بھی اگر اس کو سنیں تو ضرور اسلام قبول کر لیں۔ آخرت کی بات رسول کے لئے اہم، ابو لہب کے لئے غیر اہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دعوت عام کا حکم ہوا تو آپ نے صفا کے ٹیلے پر کھڑے ہو کر مکہ والوں کو پکارا۔ لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا: لوگو: میں تم کو آخرت کے عذاب سے ڈراتا ہوں (ا انی نذیر لکم بین یدی عذاب شدید) ابو لہب نے یہ سن کر کہا : تبآلک سائر اليوم اما دعونا الا لهذا (سیرت ابن کثیر) سارے دن تمھارا برا ہو۔ کیا یہی بات بتانے کے لئے تم نے ہم کو بلایا تھا۔ مدعو کو حقیر نہ سمجھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپس ہوئے تو سخت زخمی ہو چکے تھے۔ راستہ میں آپ نے انگور کے ایک باغ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader