Urdu book · اسلامی زندگی

دعوت

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

میں پناہ لی۔ یہ باغ مکہ کے ایک سردار ربیعہ کے بیٹوں عقبہ اور شیبہ کا تھا۔ یہ دونوں اس وقت باغ میں تھے۔ انھوں نے آپ کی حالت دیکھ کر اپنے نصرانی غلام عداس کے ہاتھ کچھ انگور آپ کے پاس بھیجیے۔ آپ نے اس کو کھانا شروع کیا تو کہا ’’بسم اللہ‘‘۔ عداس کو یہ بات عجیب لگی۔ آپ نے اس سے پوچھا ’’تم کہاں کے رہنے والے ہو‘‘ اس نے کہا ’’نینوی کا‘‘ آپ نے فرمایا: اس بھلے آدمی کے شہر کے جس کا نام یونس بن متی تھا اس نے کہا ’’آپ کو یونس بن متی کی خبر ہے‘‘ آپ نے اس کو قرآن کا وہ حصہ سنایا جو حضرت یونس علیہ السلام کے بارہ میں آپ پر نازل ہوا تھا : وکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یحق احد ابلاغہ رسالات اللہ تعالیٰ (ابو نعیم فی دلائل النبوۃ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کو اللہ کا پیغام پہنچاتے اس کو کبھی حقیر نہیں سمجھتے تھے۔ بے آمیز سچائی لوگوں کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی اتری تو آپ گھبرائے ہوئے مکان واپس آئے۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آپ نے فرمایا : مجھے ایسا محسوس ہوا گو یا میری جان نکل جائے گی (لقد خشیت علی نفسی) خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو اپنے عزیز ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ وہ نصرانی ہو گئے تھے اور انبیاء کی تاریخ اور قدیم آسمانی کتب کا مطالعہ کیا تھا۔ آپ کے حالات سن کر انھوں نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم اس امت کے نبی ہو۔ تمھارے پاس وہی فرشتہ آیا ہے جو موسیٰ کے پاس آیا تھا اور تمھاری قوم تم کو جھٹلائے گی، تم کو تکلیف دے گی، تم کو وطن سے نکالے گی ، تم سے جنگ کرے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: او مخرجی ھم (کیا وہ مجھے نکال دیں گے) ورقہ بن نوفل نے کہا ہاں، جو پیغام تم لے کر آئے ہو، یہ پیغام جب بھی کوئی لے کر آیا ہے تو لوگ اس کے دشمن ہوگئے ہیں۔ اور اس سے لڑائی کی ہے۔ مدعو کی زبان میں کلام کرنا ابو البحتری کہتے ہیں ۔ ایران سے جنگ کے زمانہ میں ایک لشکر کے امیر سلمان فارسی رضی اللہ عنہ تھے۔ انھوں نے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا۔ لشکر والوں نے کہا : اے ابو عبد اللہ ! کیوں نہ ہم ان پر حملہ کر دیں۔ سلمان فارسی رض نے کہا مجھے موقع دو کہ میں ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کروں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ سلمان فارسی نے اہل قلعہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا: میں بھی تمھارے جیسا ایک فارسی ہوں۔ تم دیکھ رہے ہو کہ یہ عربی لوگ کس طرح میری اطاعت کر رہے ہیں۔ تم اسلام لے آؤ۔ جو ہمارے لیے ہوگا وہی تمھارے لیے ہوگا۔ جو ہمارے لئے نہ ہو گا وہ تمھارے لئے بھی نہ ہوگا (ان اسلمتم فلکم مثل الذی لنا وعليكم مثل الذی علینا) اور اگر تم اپنے دین پر قائم رہنا چاہتے ہو تو جزیہ ادا کرو اور اگر تم اس سے بھی انکار کرو گے تو ہم تم سے جنگ کریں گے۔ قال وطبن اليهم بالفارسية (احمد) البابحتری کہتے ہیں کہ یہ بات انھوں نے فارسی زبان میں کہی۔ اصلاح سے مایوس ہو کر بد دعا کرنا درست نہیں طفیل بن عمرو دوسی زیارت کعبہ کے لئے مکہ آئے۔ قریش کے کچھ لوگوں نے ان سے کہا۔ ’’دیکھو تم ہمارے شہر میں آئے ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page