Urdu book · اسلامی زندگی

اللہ والے

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

محبوب ہو مجھے حکم دیجئے، میں کسی امر میں نافرمانی نہ کروں گا۔" آپ نے فرمایا: "اگرچہ میں تم کو حکم دوں کہ تم اپنے والدین سے قطع تعلق کر لو!" راوی کہتے ہیں کہ ان کی ایک ماں تھی اور وہ ان کے ساتھ بہت زیادہ سلوک کرتے تھے۔ طلحہ بن براٗؓ آپ کے حکم کی تعمیل کے لئے تیار ہو گئے تو آپ نے فرمایا: "اے طلحہ! ہمارے دین میں قطع رحم نہیں۔ مگر میں نے چاہا کہ تمھارے دین میں کوئی شک نہ رہ جائے" طلحہ بن براٗؓ اسلام لائے اور ان کا اسلام بہت اچھا رہا۔ وہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے آئے۔ آپ نے ان کو اس حال میں پایا کہ ان پر بے ہوشی طاری تھی۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا: جہاں تک میرا خیال ہے، طلحہ اپنی اسی رات میں اٹھائے لائے جائیں گے۔ اس کے بعد آپ یہ کہہ کر واپس آگئے کہ جب یہ ہوش میں آئیں تو مجھ کو بلالیا۔ ان کو آدھی رات کو ہوش آیا۔ مگر انھوں نے اطلاع کرانے کو منع کر دیا۔ انھوں نے کہا: ایسا نہ ہو کہ رات کے اندھیرے میں کوئی موذی جانور آپ کو کاٹ لے یا یہودی دشمنوں سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچے۔ رات ہی کو حضرت طلحہ کا انتقال ہو گیا۔ صبح کی نماز کے بعد آپ کو ان کی دفات کی خبردی گئی تو آپ نے فرمایا: اللهم القاه يضحك اليك وانت تضحك اليه خدایا! تو اس سے اس طرح ملاقات کر کہ وہ تجھ کو دیکھ کر ہنسے اور تو اس کو دیکھ کر ہنسے۔ اصل اعتبار اندر کے انسان کا ابن عساکر نے زہری سے روایت کی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن حذافہ رضہ کے بارے میں شکایت کی گئی کہ وہ مزاح اور تمسخر کی باتیں کرتے ہیں (انہ صاحب مزاح دباطل) آپ نے فرمایا: ان کو چھوڑ دو۔ ان کا جو باطن ہے وہ اللہ اور رسول کو اترکوه فان له بطانة يحب الله ورسوله دوست رکھتا ہے۔ مسئلہ کھڑا کئے بغیر ساتھ دینا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے غزوہ روم کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام کو جمع کر کے تقریر فرمائی۔ آپ نے کہا: میری رائے ہے کہ مسلمان ایک ملک شام کی طرف رومیوں سے جہاد کے لئے نکلیں ۔ اللہ عزوجل مسلمانوں کی مدد فرمائے گا اور اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page