اللہ والے
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
شخص کی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ پہلے جا کر اس کو دیکھ لو۔ وہ گئے اور لڑکی کے والدین سے اپنا ارادہ ظاہر کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سنایا۔ والدین کو یہ بات ناگوار ہوئی کہ ان کی لڑکی ایک غیر شخص کے سامنے آئے اور وہ اس کو دیکھے۔ لڑکی اس وقت گھر کے اندر موجود تھی، اور پردہ کے پیچھے سے یہ باتیں سن رہی تھی۔ اس نے بلند آواز سے کہا اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے تو تم آ کر مجھ کو دیکھ لو۔ اور اگر آپ نے حکم نہیں دیا ہے تو میں تم کو خدا کی قسم دلاتی ہوں کہ ہرگز ایسا مت کرنا (سنن ابن ماجہ، باب النکاح) کلمہ اسلام کی حقیقت اخلاص اور تقویٰ ہے حضرت عثمان بن عفان کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو بندہ بھی اس کو واقعی اپنے دل سے کہے وہ آگ پر حرام ہو جائے گا حضرت عمر فاروق نے کہا کہ میں تم کو بتاؤں کہ وہ کلمہ کیا ہے۔ وہ اخلاص کا کلمہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب پر لازم کیا تھا۔ وہ تقویٰ کا کلمہ ہے جس کی تلقین اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کو موت کے وقت کی تھی۔ وہ اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (اخ رج احمد عن عثمان بن عثان قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول : إني لاعلم كلمة لا يقولها عبد حقا من قلبه الاحرم على النار۔ قال عمر بن الخطاب ا كا احد منك ماهی۔ هي كلمة الاخلاص التي التزمها الله تعالى محمداً صلى الله عليه وسلم واختها وهى كلمة التقوى التي لاص عليها نبى الله صلى الله عليه وسلم عمه ابا طالب عند الموت شهادة ان لا اله الا الله) ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی غیبی حقیقتوں کو دیکھنے لگے حضرت مالک بن انس کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ نے پوچھا کہ اے معاذ، تم نے کیسے صبح کی (كيف اصبحت يا معاذ، انھوں نے کہا کہ میں نے اللہ پر ایمان کے ساتھ صبح کی۔ آپ نے فرمایا کہ ہر قول کا ایک مصداق ہوتا ہے اور ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ پھر جو کچھ تم کہتے ہو اس کا مصداق کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول میں نے کبھی کوئی ایسی صبح نہیں کی جس میں مجھے یہ خیال نہ لگا ہوا ہو کہ اب میں شام نہ کر سکوں گا۔ اور کبھی میں نے کوئی ایسی شام نہیں کی جس میں مجھے یہ خیال نہ ہو کہ میں صبح نہ کر سکوں گا۔ اور میں نے کوئی قدم ایسا نہیں اٹھایا جس میں مجھے یہ خیال نہ ہو کہ میں دوسرا قدم نہ اٹھا سکوں گا۔ اور گویا کہ میں گھٹنوں کے بل گری ہوئی ان تمام امتوں کو دیکھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader