Urdu book · اسلامی زندگی

اللہ والے

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

رہا ہوں جن کو اپنے اعمال نامہ کی طرف بلایا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ ان کا پیغمبر ہے۔ اور ان کے ساتھ وہ بت ہیں جن کو وہ خدا کے سوا پوجتی تھیں۔ اور گویا کہ میں اہل دوزخ کی سزاکو اور اہل جنت کے ثواب کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم معرفت کو پہنچ گئے، اب اسی پر جمے رہو، (معرفت لازم، حلیۃ الاولیا لا بی نعیم، جلد اول) قرآن نصیحت کے لئے ہے نہ کہ محض تلاوت کے لئے امام احمد نے حضرت عائشہ کی روایت نقل کی ہے کہ ان کو بتایا گیا کہ کچھ لوگ رات کو قرآن پڑھتے ہیں اور رات بھر میں سارا قرآن ایک یا دو بار پڑھ ڈالتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان لوگوں نے پڑھا اور انھوں نے نہیں پڑھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساری رات کھڑی رہتی۔ آپ سورہ بقرہ، سورہ آل عمران اور سورہ النساء پڑھتے۔ جب بھی آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں اللہ سے ڈرایا گیا ہے تو آپ ضرور اللہ سے دعا کرتے اور پناہ مانگتے۔ اور جب بھی آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں بشارت ہو تو آپ ضرور اللہ سے دعا کرتے اور اس میں رغبت ظاہر کرتے (اخراج احمد عن عائشة رضى الله عنها انها ذكر لها ان ناسا يقرؤن القرآن في الليل مرة او مرتين فقالت اولئك قرؤا و لم يقرؤا كنت اقوم مع رسول الله صلّى الله عليه وسلو ليلة التمام فكان يقرأ بالبقرة وآل عمران و النساء فلايمر بآية فيها تخويف الا دعا الله واستعاذ ولا يمر بآية فيها استبشار الا دعا الله ورغب اليه) دنیا کی تکلیفوں پر صبر کرنے سے آخرت کے گناہ معاف ہوتے ہیں حضرت ابو بکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ آیت پڑھی من يعمل سوء يجز بھ (جو شخص کوئی برائی کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا)، اور کہا کہ اب ہمارے لئے بھلائی کی کیا صورت ہے۔ جو برائی بھی ہم نے کی ہے اس کی سزا ہم کو ملے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابو بکر، خدا تھیں معاف کرے۔ کیا تم بیمار نہیں ہوتے۔ کیا تم کو تھکن نہیں ہوتی۔ کیا تم غمگین نہیں ہوتے۔ کیا تم کو مصیبت نہیں پیش آتی۔ کیا تم کو ٹھوکر نہیں لگتی۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ یہ سب تو پیش آتا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ گناہ ہوں کا بدلہ دنیا میں دیا جاتا ہے (فھی ما تجزن ونبه فی الدنیا، کنز العمال، جلد اول) چھوٹوں کے جنازہ میں بھی بڑوں کو شرکت کرنا چاہئے مدینہ میں ایک کالے رنگ کی باؤلی کی عورت تھی۔ وہ مسجد کا کوڑا صاف کیا کرتی تھی۔ اس کا انتقال ہوا تو چند لوگوں نے اس کی تدفین کر دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر نہ دی۔ آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سے کسی کا انتقال ہو جائے تو مجھ کو اس کی اطلاع دیا کرو۔ اور آپ نے بعد کو اس کی نماز جنازہ پڑھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page