ایمانی صفات
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
جو کھوئے وہی پاتا ہے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے حضرت خالد کو ایک جہاد پر روانہ کیا۔ اس وقت آپ نے ان کو جو نصیحتیں کیں ان میں سے ایک نصیحت یہ تھی کہ موت کے حریص بنو، تم کو زندگی دی جائے گی (احرص على الموت توهب لك الحياة) صرف معلومات سے کوئی شخص عالم نہیں بنتا حضرت مالک بن انس کا قول ہے کہ علم ایک روشنی ہے جو صرف ایسے دل سے مانوس ہوتا ہے جوڈڑنے والا اور فروتنی کرنے والا ہو (العلم نور لا يأنس الا بقلب تقى خاشع) خوش حالی زیادہ سخت آزمائش ہے ابو یعلی اور بزار نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لا أنا لفتنة السراء اخوف عليكم من میں تمہارے بارہ میں خوش حالی کے فتنہ سے زیادہ فتنة الضراء - انكم ابتليتم بفتنة ڈرتا ہوں بہ نسبت تنگ حالی کے۔ تم تنگ دستی کے الضراء، فصبرتم وان الدنيا حلوة خضرة فتنہ میں مبتلا کئے گئے اور تم نے صبر کیا۔ مگر دنیا بڑی شیریں اور سر سبز ہے۔ طبرانی نے عوف بن مالک کے واسطہ سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نصب عليكم الدنيا صباحتي لا يزيغكم دنیا تمہارے اوپر بہہ پڑے گی یہاں تک کہ میرے بعد تمھارے اندر کجی آئی تو دنیا کے سوا کسی اور سبب بعد ان زغتھم الاھی سے نہیں آئے گی۔ گھمنڈ خدا کے یہاں قابل معافی نہیں عن سفیان الثوری : كل معصية عن شهوة حضرت سفیان ثوری نے کہا کہ ہر گناہ جو خواہش فانہ يرجى غفرانها وكل معصية عن الكبر سے ہوتا ہے اس کی معافی کی امید ہے اور ہر گناہ فانه لا يرجى غفر انها - لان معصية ابليس جو بڑائی سے ہوتا ہے اس کی معافی کی امید نہیں كان اصلها من الكبر وزلة آدم كان کیوں کہ ابلیس کا گناہ بڑائی کے سبب سے تھا اور آدم کی لغزش خواہش کے سبب سے۔ اصلها من الشهوة آدم کو توبہ کے بعد معافی مل گئی۔ ابلیس ہمیشہ کے لئے رحمت سے دور کر دیا گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader