Urdu book · اسلامی زندگی

ایمانی صفات

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

الزام تراشی کی کوئی حد نہیں عبد اللہ بن مسعود رضہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ حنین میں جو اموال غنیمت حاصل ہوئے تھے جب ان کی تقسیم ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اشراف عرب کو باقی لوگوں پر ترجیح دی اور ان کو نسبتاً زیادہ دیا۔ ایک سلمان نے یہ دیکھ کر کہا کہ خدا کی قسم، یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں نہ عدل کیا گیا ہے اور نہ اس میں اللہ کی رضا چاہی گئی ہے (واللہ هذه قسمة ماعدل فيها، وما أريد فيها وجه الله) نصیحت کرنے کا پیغمبرانہ طریقہ یہ ہے حضرت خزیم ایک صحابی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ان کے بارہ میں فرمایا: خزیم اسدی کیا ہی اچھے آدمی ہیں۔ کاش ان کے بالوں کی لٹ لمبی نہ ہوتی اور ان کی تہہ نیچے نہ لٹکتی (نعم الرجل خزيم الاسدی لولا طول جمته و اسبال ازارہ، سنن ابی داؤد) حضرت خزیم کو جب معلوم ہوا کہ رسول اللہ نے ایسا کہا ہے تو انھوں نے ایک چھری لی اور اپنے بال کی لٹوں کو کاٹ دیا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی حضرت عبداللہ کے بارے میں ایک بار فرمایا کہ عبداللہ کیسے اچھے آدمی ہیں۔ کاش وہ رات کو نماز پڑھتے (نعم الرجل عبد الله لو كان يصلي بالليل، بخاری) حضرت عبد اللہ کو جب معلوم ہوا کہ رسول اللہ نے ایسا کہا ہے تو انھوں نے فوراً اس پر عمل شروع کر دیا جنتی کہ وہ راتوں کو بہت کم سوتے تھے۔ جس کی شرارت کا اثر اس کے بعد بھی باقی رہے ایک حکیم کا قول ہے کہ برکت اس کے لئے ہے کہ جب وہ مرا تو اسی کے ساتھ اس کے گناہ بھی مرگئے۔ اور ہلاکت اس کے لئے ہے کہ جب وہ مرے تو اس کے بعد اس کے گناہ باقی رہیں (طوبي لمن اذا مات تمت معه ذنوبه و ويل لمن يموت وذنوبه باقية بعده) بول چال بند کرنا جائز نہیں عن عطاء بن يزيد الليثي ثم الجندعي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے لئے جائز نہیں لاحد ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال ۔ کہ وہ اپنے بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ يلتقيان فيعرض هذا ويصد هذا وخير هما دونوں ایک دوسرے سے ملیں مگر وہ اس سے اعراض کرے الذي يبدأ بالسلام ۔ (اخرجه البخاري) اور یہ اس سے اعراض کرے ۔ اور ان دونوں میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page