ایمانی صفات
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۔ (فی کتاب الادب) جب ہر چیز آخرت کی یاد کا ذریعہ بن جائے ابن کثیر نے سورہ توبہ کی تفسیر کے آخر میں ایک حدیث نقل کی ہے جو حسب ذیل ہے : قال الطبرانی حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمی طبرانی نے روایت کی ہے کہ حضرت ابو ذر رضى اللہ عنہ حدثنا محمد بن عبد الله بن یزید المقری نے فرمایا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا حدثنا سفيان بن عيينه عن قطن عن ابی اور حال یہ تھا کہ اگر کوئی چڑیا اپنے دونوں پروں الطفيل عن ابی ذر قال : کو فضا میں ہلاتی تو اس سے بھی آپ ہم کو کسی علم کی یاد ترکنا رسول الله صلى الله عليه وسلم دلایا کرتے تھے۔ وما طائر يقلب جناحيه في الهواء الا وهو يذكر لنا منه علماً . اصلاح صرف قرن اول کی تقلید سے امام مالک نے فرمایا کہ امت مسلمہ کا آخر بھی صرف اسی سے درست ہوگا جس سے اس کا اول درست ہوا تھا۔ ( لن يصلح آخر هذه الامة الا بما اصلح به اولها ) عمل کی قیمت ملتی ہے نہ کہ محض آرزوؤں کی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک بار فرمایا ۔ اے اللہ کے بندو ، میں تم کو اور اپنے کو تقویٰ اور اطاعت کی نصیحت کرتا ہوں۔ اور عمل اپنے آگے بھیجنے کی اور بے بنیاد آرزوؤں کو چھوڑنے کی۔ کیوں کہ جو شخص عمل میں کم رہ جائے اس کو آرزوئیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتیں (اوصیکم عباد الله و نفسی بتقویٰ الله ولزوم طاعته - و تقديم العمل وترك الاصل فانه من فرط في عمله لم ينتفع بشئ من امله) دشمن سے بھی نفرت نہ کیجئے احد کی جنگ میں دشمنوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکے ۔ پتھر آپ کو لگے ۔ آپ کے دانت ٹوٹ گئے اور آپ کے چہرہ سے خون بہنے لگا ۔ اس جنگ میں آپ کے چا حضرت حمزہ مارے گئے اور بہت سے صحابہ قتل ہوئے ۔ چنانچہ آپ کے کچھ اصحاب نے آپ سے کہا کہ ان دشمنوں کے خلاف بددعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا ہوں بلکہ داعی اور رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں (انی لم ابعث لعانا ولكن بعشت داعيا ورحمة)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader