عبادت
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
عمل وہی ہے جس میں دنیوی فائدہ اور شہرت کی طلب نہ ہو ابو داؤد اور نسائی نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے : قال جاء رجل الى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا فقال ارأيت رجلا غزا يلتمس الاجر والذكر ماله ایک شخص جہاد کرتا ہے اور اس کے ذریعہ سے وہ دنیوی فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لا شيء له فائدہ اور شہرت چاہتا ہے ، اس کے لئے کیا ہے۔ آپ فأعادها ثلاث مرات يقول رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لئے کچھ نہیں ہے۔ یہی سوال اس نے عليه وسلم لا شيء له ثم قال ان الله لا يقبل من تین بار کیا اور ہر بار آپ نے یہی فرمایا کہ اس کے لئے کچھ العمل الا ما كان خالصا و ابتغی به وجهه نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لئے اور اس کی رضا کے لئے ہو امید اور خوف کے درمیان ابو نعیم نے نقل کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لو نادى مناد من السماء يا ايها الناس انكم داخلون اگر آسمان سے کوئی پکارنے والا پکارے کہ اے لوگو تم سب الجنة كلكم الا رجلا واحدا الخفت ان اكون کے سب جنت میں جاؤ گے سوا ایک آدمی کے ، تو مجھے ڈر ہوگا انا هو و لو نادى مناد ايها الناس انكم داخلون کہ میں ہی وہ آدمی ہوں ۔ اور اگر پکارنے والا پکارے کہ اے النار الا رجلا واحدا الرجوت ان اكون اناهو لوگو تم سب کے سب جہنم میں جاؤ گے سوا ایک آدمی کے ، تو مجھے (حلیۃ الاولیاء، جلد اول) امید ہوگی کہ میں ہی وہ آدمی ہوں۔ لوگوں کو معاف کر دینا بھی صدقہ ہے ابو عباس بن جبر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز لوگوں کو ابھارا کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے صدقہ دیں۔ لوگ اپنی وسعت کے مطابق لے آئے۔ آپ کے اصحاب میں ایک عقبہ بن زید بن حارثہ انصاری تھے۔ ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ وہ رات کو اٹھے۔ نماز پڑھی اور رو کر اللہ تعالی سے کہا: اللهم انه ليس عندی ما اتصدق به ۔ اللهم انی خدایا! میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس کو صدقہ کر دوں۔ اتصدق بعرضى على من ناله من خلقك خدایا! آپ کے بندوں میں سے جس کسی نے میری عزت لی ہو تو میں اس عزت کو صدقہ کرتا ہوں (معاف کرتا ہوں) صبح کو لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : این المتصدق هذہ اللیلة (آج کی رات صدقہ کرنے والا کہاں ہے) مگر کوئی نہ اٹھا ۔ آپ نے دوبارہ یہی سوال کیا، مگر کوئی نہ اٹھا۔ تیسری بار سوال کرنے کے بعد عقبہ بن زید اٹھے۔ آپ نے فرمایا: البشر ، فو الذی نفسی بیدہ لقد كتبت فى الزكاة تم کو خوش خبری ہو اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader