Urdu book · اسلامی زندگی

عبادت

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

کی عورتیں بنائیں ۔ اس کے بعد جب دوسری نسل آئی تو اس کو شیطان نے مزید سکھایا کہ ان کے آباد اجدادان عورتوں کے پاس جو عبادت کرتے تھے وہ خود انھیں بزرگوں کی عبادت ہوتی تھی جن کی یہ عورتیں ہیں اور یہی بزرگ ہیں جو بارش برساتے ہیں اور سارے کام بناتے ہیں۔ اس طرح ان میں باقاعدہ بت پرستی شروع ہوگئی (ابن کثیر تفسیر سورہ نوح) خدا کے قانون میں کسی کے لئے رعایت نہیں سورہ مائدہ میں بنی اسرائیل کے تذکرہ کے تحت ارشاد ہوا ہے کہ ان میں سے جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں، وہ ظالم ہیں، وہ فاسق ہیں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ سورہ مائدہ کی یہ یہ تینوں آیتیں بنی اسرائیل کے حق میں اتری ہیں، وہ ہمارے اوپر چسپاں نہیں ہوتیں۔ یعنی یہودیوں میں سے جو شخص خدا کے اتارے ہوئے حکم سے انحراف کرے وہ کافر اور ظالم اور فاسق ہے نہ کہ ہم ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بنی اسرائیل تمھارے کتنے اچھے بھائی ہیں کہ کڑوا کڑوا سب ان کے لئے ہے اور میٹھا میٹھا سب تمھارے لئے ۔ ہرگز نہیں خدا کی قسم تم انھیں کے طریقہ پر قدم بہ قدم چلو گے (نعم الاخوۃ لكم بنواسـرائیل ان كانت لهم حل مرة ولكم كل حلوة كلا والله لتسلكن طريقهم قد را الشر الث) جب جنت والے جنت میں جانے سے روک دئے جائیں گے امام بخاری نے اپنی کتاب الادب المفرد (باب المعانقة) میں نقل کیا ہے۔ عبداللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: مجھے ایک صحابی کے بارے میں یہ بات پہنچی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے۔ میں نے ایک اونٹ خریدا اور اس پر کجادہ باندھا اور اس کے بعد اونٹ پر سوار ہو کر روانہ ہوا۔ میں ایک مہینہ تک سفر کرتا رہا۔ اس کے بعد میں شام پہنچا اور وہاں عبداللہ بن انیس کے گھر پر حاضر ہوا۔ میں نے دربان سے کہا : صاحب خانہ سے کہو کہ جابر در دروازہ پر ہے۔ انھوں نے کہا کیا عبداللہ کے لڑکے جابر ۔ میں نے کہا ہاں۔ پھر عبداللہ بن انیس نکلے اور مجھ کو گلے سے لگایا۔ میں نے کہا : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے۔ مجھے ڈر ہوا کہ میں مر جاؤں قبل اس کے کہ میں اس کو سنوں۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: قیامت کے دن لوگ اس حال میں جمع ہوں گے کہ ننگے، غیر مختون اور بے سر و سامان ہوں گے ۔ اللہ ان کو آواز دے گا جس کو دور والے بھی اسی طرح سنیں گے جس طرح قریب والے سنیں گے۔ اللہ فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، میں انصاف کرنے والا ہوں ۔ کوئی جنت والا جنت میں داخل نہیں ہو سکتا اگر اس نے کسی دوزخ والے پر ظلم کیا ہو جس کا وہ بدلہ چاہتا ہو۔ اور کوئی دوزخ والا دوزخ میں داخل نہیں ہو سکتا اگر اس نے کسی دوزخ والے پر ظلم کیا ہو اور وہ اس کا بدلہ چاہتا ہو۔ میں نے پوچھا ایسا کیوں کر ہوگا جب کہ ہم کو اللہ ننگے اور بے سر و سامان اٹھائے گا۔ جواب دیا : بالحسنات دالسیئات ۔ یعنی بھلائیوں اور برائیوں کے ذریعہ بدلا ادا کیا جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page