Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاص

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

اخلاص یہ ہے کہ آدمی حرام سے بچے عن زيد بن ارقم رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم من قال لا الہ الا اللہ مخلصاً نے فرمایا جو شخص اخلاص کے ساتھ کہے گا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ دخل الجنة قبل دماً اخلاصها قال ان تُخَبِّرَنُ عن نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔ پوچھا گیا اس کا اخلاص کیا ہے۔ محارم اللہ (ترغیب وترہیب) فرمایا: یہ کہ یہ کلمہ اس کو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے روک دے۔ اپنے کو تول لو اس سے پہلے کہ تمھیں تولا جائے عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنا حساب آپ کر لو قبل اس کے کہ آخرت میں تمھارا حساب کیا جائے ۔ اور اپنے آپ کو تول لو قبل اس کے کہ تم کو تولا جائے۔ اور سب سے بڑی پیشی کے لئے تیاری کر لو (حاسبوا انفسكم قبل ان تحاسبوا وتزنوا قبل ان توزنوا وتهيئوا للعرض الاكبر) علم کو ذاتی وقار کا ذریعہ بنانا عن ابی بن کعب قال تعلموا العلم واعملوا بہ ولا ابی بن کعب نے کہا۔ علم کو سیکھو اور اس پر عمل کرو۔ علم کو اس تتعلموه لتبجملو ابہ فانه يوشك ان طال بكم لئے نہ سیکھو کہ اس سے اپنی زیبائش کرو۔ کیوں کہ وہ زمانہ آنے زمان ان يتجمل بالعلم كما يتجمل الرجل بالثوب والا ہے جب کہ علم سے زیبائش کا کام لیا جائے گا جس طرح (جلد دوم ۷) آدمی کپڑے سے اپنی زیبائش کرتا ہے۔ شہرت پسندی سب سے بڑا فتنہ ہے حضرت شداد بن اوس کی موت کا وقت آیا تو انھوں نے کہا: اخوف ما اخاف على هذه الامة الرياء والشهوة الخفية (ددم ۳) اس امت پر مجھے کو سب سے زیادہ جس چیز کا اندیشہ ہے وہ ریا اور شہوت خفی ہے۔ سفیان ثوری نے کہا: (الشهوة الخفية الذی يحب ان يحمد على البر (شہوت خفی یہ ہے کہ نیکی پر تعریف سننا چاہے) يزيد بن ابی حبيب کہتے ہیں : سئل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عن الشهوة الخفية فقال هو الرجل يتعلم العلم يحب ان يجلس اليه ابن عبد البر، جامع بيان العلم وفضله - ۱۹۰) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ شہوت خفی کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا: آدمی دینی علم سیکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے پاس لوگ بیٹھیں ۔ وہاں عمل کرنا جہاں لوگ دیکھیں عن ابی هريرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ جب الحزن تعوذوا بالله من جب الحزن قالوا يا رسول اللہ وما سے پناہ مانگو۔ لوگوں نے پوچھا اے خدا کے رسول جب الحزن کیا ہے۔ جب الحزن، قال وادی فی جهنم يتيح ذ منه جهنم کل فرمایا وہ جہنم میں ایک وادی ہے جس سے خود جہنم روزانہ چار سو يوم اربع مائة مرة . قيل يا رسول اللہ ومن يدخلها بار پناہ مانگتی ہے۔ لوگوں نے پوچھا اے خدا کے رسول اس میں کون قال : القى اء المرائون باعمالهم (ترمذی۔ ابن ماجہ) داخل ہوگا۔ فرمایا علماء جو دکھاوے کے لئے عمل کرتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page