Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاص

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان سے معاملہ کرتے ہوئے اللہ کو یاد رکھنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ایک بار اپنے غلام کو مار رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا: ابومسعود ! جان لو کہ اس غلام پر تم کو جتنی قدرت ہے، اللہ کو تمھارے اوپر اس سے زیادہ قدرت ہے۔ ابومسعود انصاری رضی آپ کی زبان سے یہ سن کر کانپ اٹھے اور کہا: اے خدا کے رسول! اس غلام کو میں اللہ کی راہ میں آزاد کرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا نہ کرتے تو دوزخ کی آگ تم کو پکڑ لیتی (ابوداؤد، کتاب الادب، باب حق المملوک) اپنے اوپر قیاس کرکے بدگمانی سے بچنا افک کا قصہ جس میں نعوذ باللہ حضرت عائشہ رض پر الزام لگایا گیا، اس کے ذیل کے بہت سے واقعات میں سے ایک واقعہ ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری رض سے ان کی بیوی نے کہا کہ لوگ عائشہ کی نسبت ایسا اور ایسا کہتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ کہنے والے جھوٹے ہیں۔ پھر انھوں نے اپنی بیوی سے پوچھا: تم بتاؤ، کیا تم ایسا کام کر سکتی ہو۔ خاتون نے کہا ہرگز نہیں۔ حضرت ابوایوب نے فرمایا: پھر عائشہ رض تم سے کہیں زیادہ پاک اور طاہر و مطہر ہیں، ان کی نسبت ایسا ہر گمان کیوں کیا جاؤ مسلمان کی بہتری پر خوش ہونا طبرانی نے ابن بریدہ اسلمی سے روایت کیا ہے۔ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انی لا سمع بالغیث قد اصاب البلد من بلاد المسلمين فافرح وما لی به سائمة (حليت الاولیاء) میں سنتا ہوں کہ مسلمانوں کے شہروں میں سے کسی شہر میں بارش ہوئی ہے تو میں خوش ہوتا ہوں۔ حالاں کہ میرا کوئی جانور وہاں چرنے والا نہیں ۔ اللہ کی خاطر انتقامی کارروائی سے رک جانا غزوہ بنی المصطلق سے واپسی میں ایک اتفاقی غلطی سے عائشہ رضی اللہ عنہا راستہ میں رہ گئیں۔ بعد کو ایک صحابی نے ان کو میدان میں دیکھا تو اپنے اونٹ سے اتر کر ان کو بٹھایا اور خود اونٹ کی لگام پکڑ کر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ کو مدینہ پہنچادیا اس واقعہ کو مدینہ کے منافقین نے شوشہ بنایا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلانے لگے۔ منافقین کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے والوں میں ایک مسطح بھی تھے جو ابو بکر رضی اللہ عنہ کے رشتہ دار تھے اور آپ ان کو ہر ماہ مدد کے طور پر کچھ رقم دیا کرتے تھے۔ جب آپ کو معلوم ہوا کہ اس پروپیگنڈے میں مسطح بھی شریک ہیں تو انھوں نے کہا: خدا کی قسم اب میں مسطح کو کچھ بھی نہیں دوں گا۔ اس کے بعد قرآن میں حکم اترا کہ تم میں سے جو لوگ مال اور قدرت رکھتے ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ اپنے رشتہ دار مسکین اور مہاجر پر سبیل اللہ کی مدد نہ کریں گے ۔ ان کو چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کردے اور اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے (نور ۲۲) یہ آیت اتری تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں خدا کی قسم مجھے محبوب ہے کہ اللہ مجھے معاف کردے (رٹی واللہ انی لاحب ان یغفرلی، سیرت ابن ہشام) اور اس کے بعد دوبارہ مسطح کی رقم جاری کر دی۔ اللہ اس کو قیامت کے دن آگ سے بچائے گا رسول اللہ رض نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کو بے آبروئی سے بچائے قیامت کے دن اللہ اس کو آگ سے بچائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page