Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاص

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

شکایت کے وقت حق پر قائم رہنا قال عمر: ما عاقبت من عصى الله فيك بمثل عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص تمھارے بارے میں اللہ کی نافرمانی ان تطيع الله فيه (تفسیر ابن کثیر جلد ثالث، صفحه ۴۸) کرے، تم اس کے بارے میں اللہ کی اطاعت کرو۔ یہی اس کا سب سے بہتر بدلہ ہے۔ بے خوف انسان ایمانی جذبات کو سمجھ نہیں سکتا ہزار نے ابو سلمہ رضیہ اور ابو ہریرہ رضیہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ میں ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں، تم لوگ اس کے خرچ کے لئے صدقہ دو۔ عبدالرحمن بن عوف رضیہ ایک تاجر آدمی تھے انھوں نے کہا اے خدا کے رسول ! میرے پاس چار ہزار ہیں۔ دو ہزار میرے گھر والوں کے لئے ہیں اور دو ہزار میں اپنے رب کو قرض دیتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بارك الله لك فيما اعطیت وبارك لك اللہ تمھیں اس چیز میں برکت دے جو تم نے دیا اور اس چیز میں برکت دے جو تم نے روکا فيما امسكت ابو عقیل انصاری رضیہ ایک غریب آدمی تھے۔ انھوں نے ساری رات ایک باغ والے کے یہاں پیٹھ پر پانی لاد کر سینچائی کی۔ اس کی مزدوری میں ان کو دو صاع (سات سیر) کھجوریں ملیں۔ انھوں نے ایک صاع کھجور اپنے گھر والوں کے لئے چھوڑی اور ایک صاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی۔ آپ نے ان کے لئے بھی برکت کی دعا فرمائی جس طرح عبدالرحمن بن عوف رضیہ کے لئے کی تھی ۔ مگر مدینہ کے منافقین نے دونوں پر طعن و طنز شروع کر دیا۔ عبدالرحمن بن عوف رضیہ کے متعلق کہا: اس شخص نے محض دکھانے کے لئے دیا ہے (ما اعطی الا ریاء) دوسری طرف ابو عقیل رضیہ کی بابت کہا: ”اللہ اور رسول کیا اس کے اس صاع سے مستغنی نہ تھے “ انسان سے کچھ نہ مانگنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من يكفل لى ان لا يسئل الناس شيئاً اتكفل له بالجنة (کون مجھ سے اس بات کا کفیل بنتا ہے کہ وہ کسی سے کسی چیز کا سوال نہ کرے گا) حضرت ثوبان رضیہ نے کہا ” میں “ چنانچہ اس کے بعد وہ کسی شخص سے کسی بھی چیز کا سوال نہیں کرتے تھے (احمد، نسائی ، ابن ماجہ، ابو داؤد) کیفیات کے لئے حالات ضروری ہیں ترمذی نے ابو امامہ رضیہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس خدا کا فرشتہ آیا اور کہا اے محمد ! اللہ نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تم چاہو تو مکہ کے پتھریلے میدان کو تمھارے لئے سونے سے بدل دیا جائے۔ آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور کہا: لا يا رب، ولكن اشبع يوما واجوع يوما - فاذا جعت اے میرے رب نہیں۔ بلکہ مجھے یہ پسند ہے کہ ایک دن سیر ہو کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page