تواضع
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
مصنوعی ادب و احترام اسلام کا طریقہ نہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ سے زیادہ محبوب ہمارے لئے کوئی نہ تھا۔ مگر جب وہ ہمارے پاس آتے تو ہم آپ کے لئے کھڑے نہ ہوتے۔ کیوں کہ ہم جانتے تھے کہ آپ اس کو پسند نہیں کرتے تھے (مسلم) ضرورت سے زیادہ چیزوں کے عادی نہ بنو عبداللہ بن شریک اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لئے فالودہ لایا گیا اور ان کے سامنے رکھ دیا گیا۔ آپ نے فرمایا: تو بڑی اچھی خوشبو والا ہے۔ تیرارنگ بھی اچھا ہے۔ اور تیرا ذائقہ بھی اچھا۔ مگر میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو اس چیز کا عادی بناؤں جس کا عادی میں نہیں ہوں (ولکن اکروه ان اعود نفسی ما لم تعتدہ، حلیۃ الاولیاء جلد ۱ صفحہ ۸۱) فخر کی نفسیات میں مبتلا ہونے والا خدا کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے ابو نعیم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک بار ایک نیا کرتا پہنا۔ میں اس کو دیکھتی تھی اور خوش ہوتی تھی۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم کیا دیکھ رہی ہو ۔ اللہ تمھاری طرف دیکھنے والا نہیں (ما تنظرین ، ان اللہ ليس بناظر اليك) میں نے کہا کیوں۔ فرمایا کیا تم کو معلوم نہیں کہ بندے کے اندر جب دنیا کی زینت سے احساس فخر پیدا ہوتا ہے تو اس کا رب اس سے ناراض ہو جاتا ہے جب تک کہ وہ بندہ اس زینت کو چھوڑ نہ دے۔ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے اس کرتے کو اتارا اور اس کو صدقہ کر دیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شاید تمھارا یہ صدقہ تمھارے لئے کفارہ بن جائے (عسی ذلك ان يكف عنك، حلیۃ الاولیاء جلد ۱) غصہ پر قابو رکھنا سب سے بڑی بہادری ہے عبداللہ بن مسعود رضہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ پہلوان کس کو سمجھتے ہو۔ لوگوں نے کہا۔ وہ شخص جو لوگوں کو کشتی میں پچھاڑ دے۔ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے (ولكنه الذي يملك نفسه عند الغضب مسلم) سب کچھ کر کے بھی یہی سمجھنا کہ کچھ نہیں کیا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر مغیرہ بن شعبہ رضہ کے مجوسی غلام ابو لولو نے قاتلانہ حملہ کیا۔ مسلسل خون بہہ رہا تھا۔ آپ نے دودھ منگاکر پیا تو دودھ کی سفیدی زخموں کے راستہ سے بہہ پڑی ۔ آپ نے فرمایا : واللہ لو ان لی طلاع الارض ذهبا لافتدیت به من عذاب الله من قبل ان اراه (خدا کی قسم اگر میرے پاس زمین کے برابر سونا ہوتا تو میں اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے اسے فدیہ دے دیتا قبل اس کے کہ میں اسے دیکھوں)۔ عبداللہ بن عباس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لئے دعا کی کہ اللہ آپ کے ذریعہ دین کو اور مسلمانوں کو طاقت دے جب کہ مسلمان مکہ میں حالت خون میں تھے۔ آپ اسلام لائے۔ آپ کا اسلام باعث قوت ہوا۔ آپ کے ذریعہ اسلام کو سربلندی ملی۔ آپ نے ہجرت کی اور آپ ہر غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ پھر رسول اللہ علیہ وسلم کی وفات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader