تواضع
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئی اور وہ آپ سے راضی تھے۔ پھر آپ خلیفہ اول کے مشیر اور مددگار رہے اور ان کی وفات ہوئی اور وہ آپ سے راضی تھے۔ پھر آپ مسلمانوں کے امیر مقرر ہوئے۔ اللہ نے آپ کے ذریعہ شہروں کو آباد کیا، دولت کی بہتات کردی، آپ کے ذریعہ اسلام کے دشمنوں کا خاتمہ کیا۔ پھر شہادت پر آپ کا خاتمہ لکھ دیا۔ پس مبارک ہو، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اس نے دھوکا کھایا جو تم لوگوں کے دھوکہ میں آگیا۔" پھر فرمایا: اے عبداللہ! کیا تم قیامت کے دن میرے لئے گواہی دو گے؟" انھوں نے کہا ہاں۔ پھر اپنے لڑکے سے کہا: اے عبداللہ! میرا چہرہ زمین پر رکھ دو۔ وہ حضرت عمر کا سراپنی ران پر لئے ہوئے تھے۔ انھوں نے ران سے اٹھا کر پنڈلی پر رکھ لیا۔ حضرت عمر نے کہا: "تم میرا رخسار زمین سے ملا دو۔" انھوں نے ایسا کیا۔ حضرت عمر نے کہا: "عمر ! خرابی! ہے تیری اور تیری ماں کی اگر اللہ نے تجھے معاف نہ کیا (ويلك وويل أمك يا عمر، إن لم يغفر الله لك) (طبرانی) اس کے بعد آپ کی وفات ہوگئی۔ ہر حال میں عبدیت پر قائم رہنا امام نسائی اور امام احمد نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ غزوہ بدر کے سفر میں ہر تین آدمی کے درمیان ایک اونٹ تھا۔ لوگ باری باری سوار ہوتے تھے۔ یہی حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ آپ کے ساتھ دوسرے دو آدمی ابو لبابہ اور علی بن ابی طالب رض تھے۔ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اركب حتى نمشي عنك آپ سوار رہئے۔ ہم آپ کے بدلے پیدل چلیں گے) آپ نے فرمایا: تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقت ور نہیں ہو اور نہ مجھ کو تم سے کم ثواب کی ضرورت ہے (ما انتما باقوی منی ولا انا باغنی عن الاجر منكما (البداية والنهاية جلد ٣) تکلف کے بجائے ضرورت کا لحاظ کرنا ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے ابو ایوب انصاری کے گھر میں قیام فرمایا۔ ان کے گھر کے اوپر ایک کوٹھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کے حصہ میں ٹھہرے اور حضرت ابو ایوب اپنے گھر والوں کے ساتھ اوپر تھے۔ ان کو یہ بات ناگوار ہوئی کہ رسول نیچے ہوں اور وہ اوپر ہوں۔ انھوں نے کہا: اے خدا کے رسول ! آپ اوپر کے حصہ میں قیام کریں۔ ہم لوگ نیچے رہیں گے۔ آپ نے فرمایا: اس کا خیال مت کرو میرے لئے نیچے کا قیام زیادہ بہتر ہے۔ کیوں کہ ملاقات کے لئے آنے والے والوں کو اس میں زیادہ آسانی ہوگی (سیرت ابن کثیر، جلد (۴) جانوروں پر مہربانی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ ایک مقام پر ہم نے پڑاؤ ڈالا۔ وہاں ایک چڑیا تھی۔ اس کے دو بچے تھے۔ ہم نے بچوں کو پکڑ لیا۔ چڑیا بولنے اور پر پھڑ پھڑانے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ کس نے اس چڑیا کو تکلیف دی ہے۔ اس کے بچے کو اسے لوٹا دو۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ چیونٹیوں کے گھر کو جلایا گیا ہے۔ آپ نے پوچھا: کس نے اس کو جلایا ہے۔ ہم نے جواب دیا کہ ہم لوگوں نے جلایا ہے۔ آپ نے فرمایا: آگ کے رب کے سوا کسی اور کے لئے آگ کا عذاب دینا جائز نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader