Urdu book · اسلامی زندگی

توکل

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں ابن عساکر نے ابو الدردار رضی اللہ عنہ کا ایک قول نقل کیا ہے ۔ انھوں نے کہا: من لم یران اللہ علیہ نعمۃ الا فی الاکل والشرب فقد قل نھمہ و حضر عذابہ (حلیۃ الاولیاء جلد ۱) جس شخص نے یہ نہ جانا کہ کھانے پینے کے سوا بھی اس کے اوپر اللہ کی نعمتیں ہیں، اس کی سمجھ بہت کم ہے اور عذاب اس کے لئے تیار ہے۔ اللہ سے تعلق روح کی غذا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ ایک کھلانے والا مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا مجھے پلاتا ہے (انی ابیت لی مطعم و ساق یسقینی) ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہو ابن ابی شیبہ نے ضحاک سے روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اشعری رض کو ایک خط میں نصیحت کرتے ہوئے لکھا : کونوا من اللہ علی وجل و تعلموا کتاب اللہ فانہ ینابیع العلوم و ربیع القلوب (کنز العمال جلد ۸ صفحہ ۲۰۸) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ کی کتاب کو سیکھو کیوں کہ وہ علوم کی سر چشمہ اور دلوں کے لئے موسم بہار ہے۔ اللہ کی رحمتوں کی کوئی حد نہیں ابن ماجہ نے محمد بن کعب قرظی کے واسطہ سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے: ما کان الله ليفتح باب الشکر و مخزن باب اللہ ایسا نہیں کرتا کہ وہ کسی کے اوپر شکر کا دروازہ المزيد و ما کان الله ليفتح باب الدعاء کھولے اور زیادتی کے دروازہ کو بند کر دے۔ اللہ ایسا ويخزن باب الاجابة و ما کان الله ليفتح نہیں کرتا کہ دعا کا دروازہ کھولے اور قبولیت کے باب التوبة و يخزن باب المغفرة دروازہ کو بند کر دے۔ اللہ ایسا نہیں کرتا کہ تو بہ کے (کنز العمال جلد ۲) دروازہ کو کھولے اور مغفرت کے دروازہ کو بند کر دے۔ اللہ کے سوا کسی کو کوئی اختیار نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضمام بن ثعلبہ رض کو بھیجا کہ وہ اپنے قبیلہ بنو سعد بن بکر کے لوگوں کو توحید کا پیغام پہنچائیں۔ حضرت ضمام نے آکر اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا اور کہا: بعثت اللات والعزیٰ (کیسے برے ہیں لات اور عزیٰ کے بت) لوگوں نے جواب دیا: مہ یا ضمام ! اتق البرص اتق الجذام اتق الجنون رکواے ضمام ۔ برس سے ڈرو، جذام سے ڈرو، پاگل پن سے ڈرو۔ لات اور عزیٰ ان کے بزرگوں کے مجسمے تھے جن کو وہ پوجنے لگے تھے ۔ ان کو ڈر ہوا کہ بزرگوں کو برا کہنے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ ضمام بن ثعلبہ پاگل ہو جائیں یا ان کو برس اور جذام جیسی بیماری ہو جائے ۔ انھوں نے کہا: ویلکم انہما و اللہ لا یضر ان ولا ینفعان (سیرۃ ابن ہشام) تمھارا برا ہو۔ خدا کی قسم لات اور عزیٰ نہ تو کوئی نقصان کر سکتے اور نہ نفع پہنچا سکتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page