Urdu book · اسلامی زندگی

توکل

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی طرف سے ہوتا ہے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: کیا ہم آپ کی پہرہ داری نہ کریں۔ آپ نے فرمایا: آدمی کی تقدیر اس کی پہرہ داری کرتی ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: وانہ لا یجد طعم الایمان حتی یعلم ان ما اصابه لم يكن ليخطئه وما اخطأه لم يكن ليصيبه (ابو داؤد) ایمان کی لذت آدمی اس وقت تک نہیں پاتا جب تک وہ یہ نہ جان لے کہ جو کچھ اس پر گزرا ہے وہ اس سے چوکنے والا تھا اور جو کچھ اس پر نہیں گزرا وہ اس پر گزرنے والا نہ تھا۔ ایک معمولی چیز بھی بہت بڑی نعمت ہے ابن ابی الدنیا اور ابن عساکر نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول نقل کیا ہے : ما من عبد يشرب الماء القراح فيدخل بغیر اذى ويخرج بغیر اذى الا وجب علیه الشكر (كنز العمال جلد ۲) ایک بندہ سادہ پانی پیے۔ اور وہ پانی تکلیف کے بغیر اندر داخل ہو جائے اور تکلیف کے بغیر باہر نکل جائے تو اس پر اللہ کا شکر واجب ہے۔ اسلام اس لئے ہے کہ آدمی اس کے ساتھ جئے عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف ان رجلا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اتى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: یا کہا کہ اے خدا کے رسول مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس رسول الله علمني كلمات اعيش بهن ولا تكثر على کے ساتھ میں جیوں اور لمبا نہ کیجئے کہ میں بھول جاؤں۔ فانسی۔ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غصہ نہ کر تغضب (موطا الامام مالک ، کتاب الجامع) اللہ سے اس حال میں ملو کہ کسی کا بوجھ تم پر نہ ہو ایک شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے بتائیے کہ علم کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: علم کی باتیں اس سے زیادہ ہیں کہ میں ان کو تمہیں لکھوں۔ مختصر یہ کہ اگر تم سے ہو سکے تو اللہ سے اس طرح ملو کہ تم نے اپنی زبان کو مسلمانوں کی عزت پر حملہ کرنے سے روکا ہو۔ تمھاری پیٹھ ان کے خون سے ہلکی ہو۔ تمھاراپیٹ ان کے مال سے خالی ہو ۔ تم نے اپنے آپ کو مسلمانوں کی جماعت سے باندھ رکھا ہو (كتب رجل الى ابن عمر رضی اللہ عنہ يسأله عن العلم فاجابه : ان العلم اكثر من ان اكتب به اليك ولكن اذا استطعت ان تلقى الله كاف اللسان عن اعراض المسلمين ، خفيف الظهر من دمائهم ، خميص البطن من اموالهم ، لازما لجماعتهم فافعل) آدمی غیر معمولی حالات میں پہچانا جاتا ہے لا يعرف الحلم الا ساعة الغضب۔ حلم و برد باری کی پہچان صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ آدمی غصہ کی حالت میں ہو (ابن عبد البر، جامع بیان العلم وفضله ، جز ثانی ، صفحه ۱۵۵)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page