Urdu book · اسلامی زندگی

آداب کلام

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

اس معاشرہ میں کوئی خوبی نہیں جس میں تنقید اور نصیحت کا ماحول نہ ہو طبرانی نے عبدالعزیز بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ کچھ لوگوں کو آپ سے شکایت ہوئی۔ انھوں نے ایک موقع پر آپ کو دھکا دے کر گرا دیا۔ آپ کے لڑکے دوڑے تو آپ نے فرمایا : ٹھیرو۔ خدا کی قسم کوئی جان جو نکالی جانے والی ہو، اس کا نکالا جانا مجھ کو ابو بکرہ کی جان نکالے جانے سے زیادہ محبوب نہیں۔ لڑکوں نے پوچھا کیوں۔ آپ نے فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ میں وہ زمانہ نہ پاؤں جس میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کر سکوں، کیوں کہ اس وقت کوئی خیر نہ ہو گا (انی اخشی ان ادرك زمانا لا استطيع ان آ امر بالمعروف ولا انہی عن منکر - ولا خير يو مئذ ) تنقید سن کر برہم نہ ہونا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے خالد بن الولید کو فوج کی سپہ سالاری سے معزول کر دیا ۔ امام احمد نے ناشرہ بن سہم الیزنی سے روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے یوم جابیہ میں عمر رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا : اے لوگو! میں تم کو بتاتا ہوں کہ میں نے خالد بن الولید کو کیوں معزول کیا۔ میں نے ان کو حکم دیا کہ اس مال کو کمزور مہاجرین کے لئے روکیں ۔ مگر انھوں نے اس کو صاحب شرف اور صاحب لسان کو دے دیا۔ اس بنا پر میں نے ان کو معزول کر دیا۔ اور ان کی جگہ ابو عبیدہ بن جراح کو مقرر کر دیا " ابو عمرو بن حفص (حضرت خالد کے رشتہ دار) مجمع میں موجود تھے۔ وہ اس کو سن کر اٹھے اور کہا : خدا کی قسم اے عمر بن خطاب ! یہ کیا عذر ہے جو تم نے بیان کیا، تم نے اس شخص کو ہٹا دیا جس کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا تھا، تم نے دہ تلوار میان میں ڈال دی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے نیام کیا تھا، تم نے وہ جھنڈا گرا دیا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑا کیا تھا اور وضعت لواء نصبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) تم نے اپنے چا کے لڑکے سے حسد کا معاملہ کیا " عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو سنا اور اس کے بعد نرمی کے ساتھ فرمایا : تم خالد کے قریبی ہو، نو عمر ہو، اپنے چچا زاد بھائی کے معاملہ میں غصہ میں آگئے ہو ( انك قريب القرابة ، حديث السن، مغضب فی ابن عمک ) ان کا اختلاف حق کے لئے ہوتا تھا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ وظائف کی تقسیم میں مساوات برتتے تھے ۔ آپ سے کہا گیا کہ مہاجرین و انصار کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیجیے ۔ آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا : ان کی فضیلت اللہ کے یہاں ہے۔ یہ گزر بسر کی چیز ہے، اس میں برابری بہتر ہے ( فضائلهم عند الله واما هذا المعاش فالسوية فيه خير ، احمد ) عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس سے اختلاف تھا۔ آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے تقسیم وظائف میں درجات کے اعتبار سے فرق کیا۔ آپ نے مہاجرین و انصار کے لئے پانچ پانچ ہزار درہم مقرر کئے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے چار چار ہزار درہم ۔ اس اصول کے مطابق اسامہ بن زید کو چار ہزار درہم ملے۔ تاہم اپنے لڑکے عبداللہ رضہ کو صرف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page