Urdu book · اسلامی زندگی

آداب کلام

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

تین ہزار درہم دیئے۔ انھوں نے کہا: "اسامہ بن زید کو آپ نے چار ہزار درہم دیئے اور میرے لئے تین ہزار درہم مقرر کئے! ان کو یا ان کے باپ کو کون سی فضیلت حاصل ہے جو مجھ کو نہیں۔" عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمھارے باپ سے زیادہ محبوب تھے اور وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ محبوب تھے ۔ (ان اباه كان احب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من ابيك وهو كان احب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم منك، بنام) ایک روایت کے مطابق عمر رضی اللہ عنہ نے آخر عمر میں فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے عملاً زیادہ درست تھی (روايه خير رائى، بنام) وہ یاد دلاتے ہی واپس دوڑ پڑے حنین کی جنگ میں ابتدائ مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ وہ میدانِ مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ عباس رضی اللہ عنہ بلند آواز تھے۔ ان سے آپ نے کہا: اے چچا لوگوں کو پکاریئے۔ انھوں نے بلند آواز سے پکارنا شروع کیا: يا اصحاب السمرة (اے کیکر کے درخت کے نیچے موت کی بیعت کرنے والو، کہاں جا رہے ہو) حضرت عباس کہتے ہیں: خدا کی قسم جب انھوں نے میری آواز سنی تو انھوں نے کہا یا لبیکاہ، یا لبیکاہ۔ ہم آئے، ہم آئے ۔ اور رسول اللہ کی طرف اس طرح دوڑ پڑے جیسے گائے اپنے بچوں کی طرف دوڑتی ہے۔ (رواه مسلم عن ابن وہب) قرآن سامنے آتے ہی رک جانا عبداللہ بن عباس رض کہتے ہیں عُیینَہ بن حصن مدینہ آئے۔ اور اپنے بھتیجے حر بن قیس کے یہاں ٹھہرے۔ حر بن قیس ان لوگوں میں تھے جن کو عمر رضی اللہ عنہ کی قربت حاصل تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس اور ان کے مشوروں میں شریک ہونے والے قرآن کے علماء ہوتے تھے خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان ۔ عُیینہ نے حر بن قیس سے کہا: اے میرے بھتیجے! تم کو امیر المومنین کے یہاں رتبہ حاصل ہے، میرے لئے امیر المومنین سے ملنے کی اجازت حاصل کرو۔ انھوں نے اجازت مانگی اور عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ عُیینہ آئے اور کہا: اے خطاب کے لڑکے! تم ہم کو نہ مال دیتے ہو اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو (رضی یا ابن الخطاب ! فو الله ما تعطينا الجزل ولا تحکم فینا بالعدل) عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر غصہ میں آگئے۔ قریب تھا کہ ان پر ٹوٹ پڑیں۔ اتنے میں حر بن قیس نے کہا: اے امیر المومنین ! اللہ نے اپنے رسول سے کہا ہے "معافی کا طریقہ اختیار کرو، نیکی کا حکم کرو اور جاہلوں سے اعتراض کرو (اعراف (199) اور یہ شخص یقیناً جاہل ہے۔ راوی کہتے ہیں: واللہ ما جاوزها عمر حین تلاها وكان وقتا فا عند كتاب الله (بخاري) خدا کی قسم قرآن کی آیت سننے کے بعد عمر رض نے ذرا بھی تجاوز نہیں کیا۔ وہ قرآن کے سامنے بہت زیادہ رک جانے والے تھے۔ ضد اور عناد ان کے لئے سچائی کو پہچاننے میں رکاوٹ نہ بن سکا ہجرت سے چند سال پہلے مدینہ میں اسلامی دعوت کا آغاز ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب بن عمیر رض کو مدینہ بھیجا۔ وہ وہاں پہنچ کر خاموشی سے لوگوں کے درمیان اسلام کی تبلیغ کرتے اور قرآن پڑھ کر سناتے۔ سعد بن معاذ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page