آداب کلام
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
مدینہ کے قبیلہ بنو عبد الاہشل کے سردار تھے۔ ان کو معلوم ہوا تو بہت خفا ہوئے۔ ایک روز نیزہ لے کر مصعب بن عمیر کی تلاش میں نکلے ۔ بستی کے باہر ایک کنوئیں پر ان کو پایا جو کچھ لوگوں کو جمع کر کے ان کو دینی باتیں بتا رہے تھے۔ سعد بن معاذ قریب آئے اور غصے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: کون اس اجنبی شخص کو یہاں لایا ہے جو ہمارے کمزور لوگوں کو بہکاتا ہے کیا تم ہمارے گھروں میں وہ چیز داخل کرنا چاہتے ہو جس کو ہم برا سمجھتے ہیں۔ بس آج کے بعد میں تم کو یہاں نہ دیکھوں ۔ اسعد بن زرارہ جو ان کے ہم قبیلہ تھے اور اسلام لا چکے تھے بولے: " میرے خالہ زاد بھائی! ان کی بات بھی سن لو۔ اگر نامعقول ہو تو رد کر دینا اور معقول دکھائی دے تو مان لینا" سعد بن معاذ کچھ نرم پڑے۔ انھوں نے کہا ان کی بات کیا ہے ۔ مصعب بن عمیر نے اس کے جواب میں قرآن سے سورہ زخرف کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا۔ قرآن کو سنتے ہی ان کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔ وہ نئی سوچ میں پڑ گئے۔ یہاں تک کہ چند روز بعد انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اب انھوں نے خو دہی بنو عبد الاہشل میں تبلیغ شروع کر دی۔ انھوں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے کہا: من شك من صغير او كبير او ذكر او انثى فليأتنا کسی چھوٹے یا بڑے، مرد یا عورت کو اس کے بارے میں باهدی منه، ناخذ به، فو اللہ لقد جاء امر شک ہو تو وہ ہمارے پاس اس سے زیادہ ہدایت والی لتخزن فيه الرقاب (ابو نعیم فی دلائل النبوۃ) چیز لے آئے ہم اس کو لے لیں گے۔ خدا کی قسم یہ ایک ایسی بات آگئی ہے کہ اس کے آگے گردنیں جھک جائیں ۔ اپنے خلاف تنقید کو پسند کرنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اس شخص کا بھلا کرے جو میرے عیوب کا تحفہ مجھے بھیجے ۔ انصاف میں بڑے چھوٹے کا لحاظ نہیں امام شبی نے روایت کیا ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ایک زرہ جنگ جمل میں کھو گئی تھی۔ حضرت علی ایک روز بازار میں چل رہے تھے۔ دیکھا کہ ایک نصرانی زر میں بیج رہا ہے۔ انھوں نے اپنی گم شدہ زرہ اس کے پاس پہچان لی اور کہا کہ یہ میری زرہ ہے۔ مسلمان قاضی میرے اور تمھارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ حضرت علی امیر المومنین تھے اور قاضی شریح اس وقت قضا کے عہدہ پر تھے ۔ مقدمہ قاضی شریح کی عدالت میں پیش ہوا۔ حضرت علی نے کہا: "اے شریح ! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کرو" قاضی شریح نے کہا "اے امیر المومنین۔ آپ کا دعویٰ کیا ہے؟" حضرت علی نے کہا "یہ زرہ میری ہے!" قاضی شریح نے نصرانی سے کہا: "تم کیا کہتے ہو؟" نصرانی نے کہا: "امیر المومنین غلط بیانی کر رہے ہیں یہ زرہ میری ہے"۔ قاضی شریح نے حضرت علی سے کہا: آپ کے گواہ کون ہیں۔ حضرت علی نے اپنے لڑکے حسن اور اپنے غلام قنبر کو پیش کیا۔ قاضی شریح نے کہا: حسن کی جگہ کوئی اور گواہ لائے۔ حضرت علی نے کہا: اترد شهادۃ الحسن (کیا تم حسن کی شہادت کو رد کر رہے ہو) قاضی شریح نے جواب دیا: یہ بات نہیں۔ مگر میں نے آپ ہی سے سن کر یاد کیا ہے کہ لڑکے کی گواہی باپ کی موافقت میں جائز نہیں ۔ لا، ولكن حفظت عنك انه لا تجوز شہادت الولد على والده ، (کنز العمال، جلد سوم، صفحه (۶)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader