Urdu book · اسلامی زندگی

آداب کلام

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

بے فائدہ باتوں کا جواب نہ دینا ابوسفیانؓ کی بیوی ہند بنت عقبہ فتح مکہ کے بعد اسلام پر بیعت ہونے کے لئے آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے الفاظ ادا کرتے ہوئے فرمایا ولا تقتلن اولادکن (تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی)۔ ہند نے کہا: انت قتلتم یوم بدر ان کو تو آپ ہی نے جنگ بدر میں قتل کر دیا۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: وہل ترکت لنا اولادا انقتلہم (کیا آپ نے ہماری اولاد کو باقی رکھا ہے جو ہم انھیں قتل کریں، تفسیر ابن کثیر جلد سوم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا اور ہند بنت عقبہ کی بیعت قبول کرلی۔ طعن و طنز کی زبان میں کلام کرنا درست نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک پہنچ کر جب دیکھا کہ لشکر میں کعب بن مالک رض نہیں ہیں تو آپ نے فرمایا : ما فعل کعب (کعب نے کیا کیا) بنی سلمہ کے ایک شخص نے کہا: اے خدا کے رسول ، ان کو ان کی چادر نے اور اپنے کاندھوں کو دیکھنے نے روک دیا (حبسه بردداه ونظره فی عطفيه) معاذ بن جبل نے جواب دیا: تم نے نہایت بری بات کہی۔ اے خدا کے رسول ! ہم نے کعب میں خیر کے سوا کوئی اور بات نہیں دیکھی (بئس ما قلت، واللہ یا رسول اللہ ما علمنا علیہ الا خیرا ، البدایہ والنہایہ) زبان کو روکنا تمام بھلائیوں کا دروازہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ انھوں نے آپ سے پوچھا : اے خدا کے رسول مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھ کو جنت میں لے جائے اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ نے فرمایا تم نے بہت بڑی بات پوچھی۔ اور یہ آسان ہے جس پر اللہ اس کو آسان کردے۔ پھر آپ نے فرمایا : تم اللہ کی عبادت کرو۔ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز ادا کرو ، زکوٰۃ دو ، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر فرمایا : کیا میں تم کو بتاؤں کہ بھلائی کے دروازے کیا ہیں۔ سنو، روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو اس طرح بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو۔ اور رات کی خاموشی میں اٹھ کر نماز پڑھنا۔ پھر فرمایا : کیا میں تم کو بتاؤں کہ دین کا سرا کیا ہے اور اس کا ستون کیا ہے اور اس کی چوٹی کیا ہے۔ میں نے کہا ضرور اے خدا کے رسول۔ فرمایا : اس کا سرا اسلام ہے ، اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔ پھر فرمایا: کیا میں تم کو بتاؤں کہ ان تمام چیزوں کی جڑ کیا ہے۔ میں نے کہا ضرور اے خدا کے رسول۔ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا کف عليك هذا (اس کو روکے رکھو) میں نے کہا اے خدا کے رسول ہم جو کچھ بولتے ہیں ، کیا اس کا بھی ہم سے مواخذہ ہوگا۔ آپ نے فرمایا : تمھاری ماں تمھیں گم کرے۔ لوگ اپنی زبان کی بدولت ہی تو آگ میں منھ کے بل گرائے جائیں گے (ثكلتك أمك وهل يكب الناس في النار على وجوههم الا حصائد السنتہم ، ترمذی) کھانے کو برا نہ کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کوئی کھانا پیش کیا جاتا تو کبھی اس کو برا نہ کہتے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page