Urdu book · اسلامی زندگی

آداب کلام

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا۔ اگر رغبت ہوتی تو کھا لیتے، نا پسند ہوتا تو چھوڑ دیتے ( ما عاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طعاما قط - ان اشتهاه اکله وان کرهه، بخاری و مسلم) مشتعل ہوئے بغیر معترض کو جواب دینا علقمہ کہتے ہیں۔ بنواسد کی ایک عورت جس کا نام ام یعقوب تھا، عبداللہ بن مسعود رض کے پاس آئی اور کہا : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ گود نا گودنے والے اور گودنا گدانے والے پر لعنت کرتے ہیں۔ حالاں کہ میں نے قرآن کو شروع سے آخر تک پڑھا ہے اور اس میں میں نے وہ بات نہیں پائی جو آپ کہتے ہیں“۔ پھر اس نے کہا: اور میرا تو یہ خیال ہے کہ آپ کے گھر والے بھی ضرور ایسا کرتے ہوں گے (انی لا ٹی اھلک یفعلون بعض ذلک) عبداللہ بن مسعود رض نے کہا تم میرے گھر میں جاکر دیکھ لو۔ وہ گھر کے اندر گئی اور دیکھا۔ مگر کسی پر گودنے کا نشان نہ پایا۔ وہ واپس آئی تو عبداللہ بن مسعود رض نے اس سے کہا: کیا تم نے قرآن میں نہیں پڑھا کہ " رسول جو دے اس کو لے لو اور جس سے وہ روکے اس سے رک جاؤ" عورت نے کہا ہاں۔ انھوں نے کہا: فانہ قد نهى عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم (تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے) جامع بیان العلم وفضلہ دوم ۱۸۸ کسی کو حقیر الفاظ میں یاد نہ کیا جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ عائشہ رض کے حجرہ میں تھے۔ گفتگو کے دوران عائشہ رض کی زبان سے اپنی سوکن صفیہ رض کے بارے میں نکل گیا : ” حسبك من صفية كذا وكذا ! وہ حضرت صفیہ رض کے ناتے قد کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔ یہ سنتے ہی اچانک آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ نے فرمایا: تم نے ایسی بات کہی کہ اگر اس کو سمندر میں ملایا جائے تو سمندر کا پانی بھی بدل جائے (لقد قلت كلمة لومزجت بماء البحر لمزجته ، ابو داود ، ترمذی ) خاموش رہنا اور اہل تنہ کو بولنے کا موقع دینا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو مدینہ میں نفاق نے زور پکڑا اور عرب وبجم مرتد ہونے لگے۔ نہاد ند (ایمان) سے ان کی ساز باز ہو گئی۔ انھوں نے کہا: وہ آدمی (رسول) وفات پا گیا جس کی وجہ سے مسلمانوں کو خدا کی مدد حاصل ہوتی تھی۔ اس وقت خلیفہ اول ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اور انصار کو جمع کیا اور کہا: ان عربوں نے بکری اور اونٹ (زکوۃ) دینا بند کر دیا ہے۔ وہ اسلام سے پھر گئے ہیں۔ عجمیوں نے نہا ندند والوں سے ساز باز کرلی ہے تاکہ وہ مل کر تم سے لڑیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ شخص چلا گیا جس کی وجہ سے تمھاری مدد ہوتی تھی۔ اب تم لوگ مجھ کو مشورہ دو۔ میں بھی تمھاری طرح ایک آدمی ہوں۔ بلکہ خلافت کا بوجھ اٹھانے کے لئے تم سب سے زیادہ کمزور ہوں ۔" عبداللہ بن عمر رض کہتے ہیں: صحابہ کرام نے سنا اس کے بعد وہ چپ ہو کر بہت دیر تک گردن جھکائے رہے پھر عمر بن الخطاب رض بولے۔ ۔ ۔ (فانطر طویلا ۔ ثم تكلم عمر بن الخطاب رض فقال... کنز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page