آداب کلام
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
بولنے میں احتیاط اشعث بن شعبہ کہتے ہیں کہ انھوں نے فزاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ عمر بن عبدالعزیز سے پوچھا گیا کہ جنگ صفین میں جو لوگ لڑے اور مارے گئے۔ ان کی بابت آپ کی کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا: یہ وہ خون ہے جس سے اللہ نے میرے ہاتھ کو محفوظ رکھا۔ میں نہیں چاہتا کہ میں اپنی زبان کو اس سے آلودہ کروں (تلك دماء كف الله عنها يدى لا اريد ان الطخ بها لسانی، ابن عبدالبر، جامع بیان العلم وفضله، جزء ثانی، صفحہ ۹۳) تنقید مگر بحث و جدال نہیں بیان کیا گیا ہے کہ طاؤس اور وہب ابن منبہ دونوں ملے۔ طاؤس نے وہب سے کہا۔ اے ابوعبداللہ میں نے آپ کے بارے میں ایک سنگین بات سنی ہے۔ انھوں نے پوچھا کیا بات۔ طاؤس نے کہا۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ اللہ ہی تو تھا جس نے قوم لوط کو ایک دوسرے پر سوار کیا۔ وہب نے یہ سن کر کہا۔ اللہ کی پناہ۔ پھر وہ چپ ہو گئے۔ میں نے پوچھا۔ کیا دونوں میں کوئی بحث ہوئی۔ راوی نے کہا نہیں۔ (روینا ان طاؤس و وهب ابن منبہ التقیا فقال طاؤس لوهب یا ابا عبد اللہ بلغنی عنك امر عظیم۔ فقال ما هو۔ قال تقول ان اللہ حمل قوم لوط بعضهم علی بعض۔ قال اعوذ باللہ۔ ثم سکتا۔ قال فقلت هل اختصما، قال لا۔ ابن عبدالبر جامع بیان العلم وفضله، جزء ثانی، صفحہ ۹۵) تنقید غلطی کی نشان دہی کا نام ہے نہ کہ عیب لگانے کا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں جو باہمی لڑائیاں ہوئیں، ان سے حضرت عبداللہ بن عمرؓ بالکل الگ رہے تھے۔ اپنی علیحدگی کے بارے میں انھوں نے بار بار کہا کہ "میں مسلمان کے ہاتھ سے مسلمان کا خون کرنا جائز نہیں سمجھتا، اس لئے اس سے الگ ہوں" تمام امت آپ کے اخلاص اور تقویٰ اور اصابت رائے پر متفق ہے۔ مگر آپ کے معاصرین نے آپ کو تہمت کرنے کے لئے ایک پہلو نکال لیا۔ کچھ لوگ آپ سے ملے اور کہا کہ آپ کیوں "جہاد" کے لئے نہیں نکلتے۔ عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کی اس لڑائی کو جہاد نہیں سمجھتا۔ یہ مسلمانوں کا باہمی قتل و خون ہے نہ کہ جہاد۔ مگر لوگ ان کے جواب سے مطمئن نہ ہوئے۔ انھوں نے کہا: واللہ ما رأيت ذلك ولكنك اردت ان یعینی خدا کی قسم تمھاری یہ رائے کچھ نہیں۔ بلکہ تم چاہتے ہو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپس بعضهم بعضا حتی اذا لم یبق غیرك قبیل: میں لڑ کر ایک دوسرے کو فنا کر دیں۔ یہاں تک کہ جب بایعوا لعبد اللہ بن عمر بامارة المومنین۔ تمھارے سوا کوئی باقی نہ رہے تو کہا جائے: مسلمانوں (ابو نعیم، حلیۃ الاولیاء، جلد ۱ صفحہ ۲۹) کی امارت کے لئے عبداللہ بن عمرؓ سے بیعت کر لو۔ اختلاف رائے کو برداشت کرنا علم کی نشانی ہے قال سعید بن ابی عروبة من لم یسمع الاختلاف فلا تعدہ عالما جو شخص اختلاف کو نہ سنے اس کو عالم نہ شمار کرو (جامع ۴۷)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader