Urdu book · اسلامی زندگی

اللہ والے

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

ایمان آدمی کو اللہ والا بناتا ہے امام احمد نے برابر بن عازب کی حدیث میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان کی سب سے مضبوط گرہ اللہ کے لئے محبت اور اللہ کے لئے دشمنی ہے (اوثق عری الایمان باللہ الحب في اللہ والبغض في اللہ) خدا کے حکم کے آگے جھک جانا طائف کے قبیلہ ثقیف کا ایک خاندان بنو عمر بن عمیر تھا۔ اور قبیلہ بنو مخزوم کا ایک خاندان بنو مغیرہ ۔ ان دونوں خاندانوں کے درمیان زمانہ جاہلیت میں سود کی لین دین کا معاملہ جاری تھا۔ فتح مکہ کے بعد دونوں خاندان اسلام لائے تو اس وقت بنو عمر بن عمیر کا سود بنو مغیرہ کے ذمہ واجب الادا تھا۔ چنانچہ بنو عمر بن عمیر نے بنو مغیرہ سے اپنے سودی بقایا کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد بنو مغیرہ نے آپس میں مشورہ کیا اور طے شدہ فیصلہ کے مطابق کہا کہ ہم اسلام لانے کے بعد اپنی اسلامی کمائی سے سود نہیں ادا کریں گے۔ اس پر جھگڑا اٹا ھا۔ اس وقت مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عتاب بن اسید حاکم تھے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی۔ آپ نے اس کے جواب میں قرآن کی یہ آیت لکھ کر بھیج دی : اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور بقایا سود کو چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔ اگر تم ایسا نہ کرو تو تم سے اللہ اور اس کے رسول کی جنگ ہے (البقره ۲۷۹ - ۲۷۸) اس آیت کو سنتے ہی بنو عمر بن عمیر کا ذہن بدل گیا۔ انھوں نے کہا: ہم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بقایا سود کو چھوڑتے ہیں (نتوب الی اللہ وذرما بقی من الربا، تفسير ابن كثير، المجلد الاول، صفحه ۴۷۹) جو رحم کرے گا اس پر رحم کیا جائے گا احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحم کرنے والوں پر رحم والا رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا (الراحمون يرحمهم الرحمان ۔ إرحموا من في الارض يرحمكم من في السماء) جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی طرف سے ہوتا ہے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: کیا ہم آپ کی پہرہ داری نہ کریں۔ آپ نے فرمایا، آدمی کی تقدیر اس کی پہرہ داری کرتی ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: وانہ لا يجد طعم الايمان حتى يعلم ان ما اصابه لم يكن ليخطئه وما اخطأه لم يكن ليصيبه (ابو داؤد) ایمان کی لذت آدمی اس وقت تک نہیں پا تا جب تک وہ یہ نہ جان لے کہ جو کچھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page