آداب کلام
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کے سوا کسی اور کو خیر میں حصہ نہ ملے۔ مگر مولانا شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادی نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے کہا: صحابہ حسد اور بغض سے پاک تھے۔ ان کا یہ کلام غلبہ محبت کے سبب سے تھانہ کہ حسد کے سبب سے۔ زبان پر قابو رکھے قال ابو عمر بلغتني عن سهل بن عبد الله التستري انه قال: ما احدث احد في العلم شيئا الا سئل عنه يوم القيامة فان دابق السنة سلم والا فهو الخطيب (جامع بيان العلم وفضله، جزء ثانی، صفحہ ۱۵۰) عبد اللہ تستری نے کہا۔ علم دین میں جو شخص کوئی نئی بات کہے گا تو ضرور اس سے قیامت میں اس کی بابت سوال ہوگا ۔ اگر اس کی بات سنت کے مطابق ہو تو وہ بچ جائے گا۔ ورنہ اس کے لئے ہلاکت ہے۔ زیادہ بولنا اچھی علامت نہیں قال نعيم بن حماد قال سمعت ابن عيينة يقول : اجسر الناس على الفتيا اقلهم علما (جامع بيان العلم و فضله، جزء ثانی، صفحہ ۱۴۵) ابن عيينة تابعی نے کہا: فتوی دینے میں سب سے زیادہ جری وہ لوگ ہوتے ہیں جو علم میں سب سے کم ہوں۔ جھوٹا الزام سب سے زیادہ سنگین جرم ہے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا : آسمان سے زیادہ بھاری کیا چیز ہے۔ فرمایا: کسی بے گناہ پر جھوٹا الزام لگانا۔ بڑا وہ ہے جو اپنی زبان پر قابو نہ رکھے عن اسماء بنت يزيد عن النبی صلی اللہ عليہ اسماء بنت يزيد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ وسلم قال: الا انبئكم بشراركم قالوا بلى يارسول صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : کیا میں بتاؤں کہ تم میں اللہ قال المشاؤون بالنميمة المفرقون بين برے لوگ کون ہیں۔ لوگوں نے کہا ہاں اے خدا کے الاحبة الباغون للبراء العيب (احمد) رسول۔ فرمایا وہ لوگ جو چغلی کرتے پھریں ۔ اور دوستوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے والے اور بے عیب لوگوں میں عیب چاہنے والے۔ کم بولنا اخلاص کی علامت ہے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے بہتر لوگ نہیں دیکھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی وفات تک صرف تیرہ مسئلے دریافت کئے جو سب کے سب قرآن میں موجود ہیں ۔ (مارأيت قوماً كانوا خيراً من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ما سألوه الا عن ثلاث عشرة مسئله حتی قبضهن، كلهن فى القرآن) حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا: صحابہ ہمیشہ صرف وہی بات پوچھتے تھے جو ان کے لئے نفع کی بات ہو (قال ما كانوا يسألون الا عما ينفعهم).

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader