آداب کلام
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
زبان جنت بھی ہے اور زبان جہنم بھی حضرت ابو الدرداء انصاری نے فرمایا، مومن کے جسم کا کوئی حصہ اللہ کو اتنا محبوب نہیں جتنا کہ اس کی زبان، اس کے ذریعہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے گا اور کافر کے جسم کا کوئی حصہ اللہ کو اتنا مبغوض نہیں جتنا کہ اس کی زبان، جس کے ذریعہ وہ اس کو آگ میں داخل کرے گا۔ (ما فی المؤمن بضعۃ احب الی اللہ عز وجل من لسانه به يدخله الجنة وما فى الكافر بضعۃ البغض الی اللہ عن وجل من لسانه، به يدخله النار، حلية الاولياء لابی نعیم جلد (1) چپ رہنا بھی ایک عمل ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چپ رہو الایہ کہ بھلی بات کہنا ہو (الصمت الا من خير) اللہ سے ڈرنے والا زبان کو روکنے والا ہوتا ہے ایک شخص نے حضرت عبداللہ سے کہا کہ مجھے نصیحت کیجئے، انھوں نے کہا : اپنے گھر کو اپنے لئے کافی سمجھو، اپنی زبان کو روک لے اور اپنی خطاؤں کو یاد کر کے رویا کر (ليسعك بيتك واكفف لسانك وابك على ذكر خطيئتك، حلية الاولياء لابی نعیم) سب سے زیادہ گناہ زبان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انسان کی اکثر خطائیں زبان سے ہوتی ہیں (اكثر خطا يا ابن آدم من لسانه) بولنے کے وقت بولنا اور چپ رہنے کے وقت چپ رہنا ابن عساکر نے حضرت ابو الدردار انصاری سے نقل کیا ہے ۔ انھوں نے فرمایا، تم خاموشی کو سیکھو جس طرح تم بولنا سیکھتے ہو۔ کیونکہ خاموشی بہت بڑی بردباری ہے۔ اور تم سنانے سے زیادہ سننے کے حریص بنو۔ اور تم ایسی چیز کے بارے میں بات مت کرو جس کا تمھیں کوئی فائدہ نہ ہو۔ اور تعجب کے بغیر ہنسنے والا نہ بن۔ اور غیر حاجت کی طرف چلنے والا نہ بن (تعلموا الصمت كما تعلمون الكلام فان الصمت حلم عظيم وكن انى أن تسمع احرص منك انى ان تتكلم ولا تتكلم فى شئ لا يعنيك ولا تكن مضحكا من غير عجب ولا مشار الى غير ادب ، كنز الاعمال جلد دوم) کسی کو برے نام سے نہ پکارو حضرت عطار بن یسار کہتے ہیں کہ جب حضرت صفیہ (زوجہ رسول) خیبر سے مدینہ آئیں تو حارثہ بن نعمان کے گھر اتاری گئیں۔ جب انصار کی عورتوں نے یہ خبر سنی تو وہ ان کو دیکھنے کے لئے جمع ہو گئیں۔ حضرت عائشہ بھی اپنے اوپر نقاب ڈالے ہوئے آئیں ۔ جب وہ دیکھ کر واپس ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے عائشہ تم نے کیا دیکھا۔ انھوں نے جواب دیا کہ ایک یہودیہ دیکھی ۔ آپ نے فرمایا ایسا مت کہو، کیونکہ وہ اسلام لے آئی اور اس کا اسلام اچھا رہا (قالت: رايت يهودية، فقال: لا تقولی ذلك، فانها اسلمت وحسن اسلامها، طبقات ابن سعد)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader