Urdu book · اسلامی زندگی

اجتماعی آداب

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

بندوں کے ساتھ جو کروگے وہی خدا تمھارے ساتھ کرے گا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت معاویہ سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: جو حاکم ضرورت مندوں اور کمزور لوگوں کے لئے اپنا دروازہ بند کرے گا تو اللہ اس کی حاجت اور اس کی ضرورت اور اس کی مسکینی کے وقت اس کے لئے آسمان کے دروازے بند کردے گا (ما من امام يُغلِق بابه دون ذوي الحاجة والخَلَّةِ والمَسكَنَة الا اغلق الله ابواب السماء دون خاتمة وحاجته و مسكنته، ترمذی) برائی کا جواب بھلائی سے دینا قال عمر: ما عاقبت من عصى الله فيك بمثل ان عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص تمھارے معاملہ میں اللہ کی تطیع الله فيه (تفسیر ابن کثیر جلد ۳ صفحہ ۲۶) نافرمانی کرے ، اس کا سب سے اچھا بدلہ یہ ہے کہ تم اس کے معاملہ میں اللہ کی فرماں برداری کرو لوگوں کے شر سے بچنے کے لئے صبر کرو حضرت احنف بن قیس تابعی فرماتے ہیں: جو شخص ایک کڑوی بات پر صبر نہیں کرے گا اس کو بہت سی کڑوی باتیں سنی پڑیں گی۔ بہت بار میں غصہ کو اس لئے پی گیا کہ اگر میں ایسا نہ کرتا تو اس سے بھی زیادہ سخت چیز کا اندیشہ تھا (من لم يصبر على كلمة سمع كلمات ورب غيظ تجرعته مخافة ما هو اشد منه) کسی کے خلاف زیادتی ہو جائے تو اس کی تلافی کے لئے اس کے حق میں دعا کیجئے قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اللهم انى اتخذ عندك عهد ان تخلفه - انما انا بشتر فاى المومنين آذيته او شتمته او جلدته او لعنته فاجعلها صلاة وزكاة وقربة تقربه بها يوم القيامة (صحیح ابن حبان) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا : اے اللہ! میں تجھ سے ایک عہد لیتا ہوں تو اس کے خلاف نہ ہونے دے۔ میں صرف ایک بشر ہوں، پس میں نے جس مسلمان کو تکلیف دی ہو یا اس کو گالی دی ہو یا اس کو مارا ہو یا اس پر لعنت کی ہو تو تو اس کو اس شخص کے حق میں رحمت اور پاکیزگی بنا دے اور اس کو قربت بنا دے جس کے ذریعہ وہ قیامت کے دن تیرا قرب حاصل کرے ۔ جو دوسرے کا برا چاہے وہ اپنا نقصان کرتا ہے قال ابو العیناء قلت لاحمد بن ابی داد ان قوما ابو العینار کہتے ہیں۔ میں نے احمد بن ابی دواد سے کہا کہ کچھ تظاهروا على - قال : يد الله فوق ايديهم (فتح) لوگوں نے میرے اوپر چڑھائی کی ہے۔ انھوں نے کہا اللہ کا قلت انهم عدد و انا واحد - قال : كم من فئة ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے۔ میں نے کہا وہ لوگ تعداد میں قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله (بقرہ) قلت ان زیادہ ہیں اور میں اکیلا ہوں۔ انھوں نے کہا کتنے چھوٹے گروہ للقوم مكرا ـ قال : ولا يحيق المكر السيئ الا باهله اللہ کے حکم سے بڑے گروہ پر غالب آئے ہیں۔ میں نے کہا ان (فاطر) لوگوں نے تدبیریں کر رکھی ہیں۔ انھوں نے کہا بری تدبیر کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page