Urdu book · اسلامی زندگی

اجتماعی آداب

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

وبال تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے (قرآن) ناحق میں کسی کا ساتھ دینا گناہ ہے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ عصبیت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم ظلم میں اپنے لوگوں کی حمایت کرو (ان تعین قومک علی الظلم، ابوداؤد) ہر ایک کے ساتھ انصاف کرنا خواہ وہ کمزور ہو یا طاقت ور معاویہ بن ابی سفیان نے ضرار صدائی سے کہا کہ اے ضرار، مجھ سے علی کی صفت بیان کرو (ریاض الصالحین) اس کے جواب میں انھوں نے جو کچھ کہا اس کے چند جملے یہ تھے: وہ ہمارے اندر ایک شخص کی مانند تھے۔ کوئی طاقت ور اپنے باطل میں ان سے امید نہ کر سکتا تھا اور کوئی کمزور ان سے عدل پانے میں مایوس نہ ہو سکتا تھا (کان فینا کاحدنا لا یطمع القوی فی باطلہ ولا ییأس الضعیف من عدلہ) جو معافی طلب کرے اس کی معافی قبول کرو عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: مَنْ اَتَاہُ اَخُوْہُ مُتَنَصِّلاً فَلْیَقْبَلْ ذٰلِکَ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس اس کا مسلمان بھائی مُحِقًّا کَانَ اَوْ مُبْطِلاً فَاِنْ لَّمْ یَفْعَلْ لَمْ یَرِدْ عَلَیَّ صفائی کرنے کے لئے آئے تو اس کو چاہیے کہ اس کا عذر الْحَوْضَ (ترغیب و ترہیب بحوالہ حاکم) قبول کرلے خواہ وہ صحیح کہہ رہا ہو یا غلط۔ اگر وہ عذر قبول نہ کرے گا تو وہ حوض کوثر پر مجھ تک نہیں پہنچے گا۔ قرآن میں غیبت کی تین قسمیں قال الحسن الغیبة ثلاثة اوجہ کلھا فی کتاب حسن بصری نے کہا، غیبت کی تین صورتیں ہیں۔ غیبت، اللہ تعالیٰ: الغیبة والا فک والبہتان۔ فاما الغیبہ افک اور بہتان۔ غیبت یہ ہے کہ اپنے بھائی کے بارے فھوان تقول فی اخیک ما ھو فیہ۔ واما الافک میں وہ بات کہو جو اس کے اندر موجود ہے۔ افک یہ ہے کہ فان تقول فیہ ما بلغک۔ واما البھتان فان تقول اس کے بارے میں وہ بات کہو جو تم کو پہنچے۔ بہتان یہ ہے فیہ ما لیس فیہ کہ اس کے بارے میں وہ بات کہو جو اس کے اندر نہیں ہے۔ مومن کا سلوک دوسروں کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہا: قد ترک نفسہ من ثلاث: المراء والاکبار و تین چیزوں سے آپ نے اپنے آپ کو بچا رکھا تھا۔ جھگڑا، مالا یعنیہ۔ و ترک الناس من ثلاث: کان لا گھمنڈ اور لایعنی کام۔ اور لوگوں کو بھی تین چیزوں سے محفوظ یذم احدا ولا یعیبہ ولا یطلب عورتہ ولا رکھا تھا۔ آپ کسی کی برائی نہ کرتے، کسی کو عیب نہ لگاتے، آپ یتکلم الا فیما رجا ثوابہ (الشمائل للترمذی) کسی کی کمزوریوں کے پیچھے نہ پڑتے آپ صرف اس معاملہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page