قوار اسلام کا معمار اتحاد اسلام
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
قولِ اسلام کا معیارِ اتحادِ اسلام ہے یا ایھا الذین آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون۔ اے ایمان والو کیوں کہتے ہو نہیں کرتے۔ کبیر مقت عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون۔ بڑی بیزاری ہے اللہ کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو۔ ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا اللہ چاہتا ہے ان کو جو لڑتے ہیں اس کی راہ میں قطار کانھم بنیان مرصوص (الصف) باندھ کر جیسے وہ دیوار ہیں سیسہ پلائی ہوئی۔ اس آیت کے مطابق قولِ اسلام کی صداقت کی جانچ اتحادِ اسلام ہے۔ اسلام کے قائلین اگر اسلامی جم کے لئے متحد نہ ہوسکیں تو ان کا قول اللہ کی نظر میں مقت کی حیثیت رکھتا ہے جس کی کوئی قیمت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں۔ یہ اصول نہایت اہم نکتہ پر مبنی ہے۔ کوئی بڑا کام اتحاد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ مگر اتحاد ایک بہت بڑی قربانی مانگتا ہے۔ یہ آدمی کے "انا" کی قربانی ہے۔ جب زیادہ انسان ایک محاذ پر جمع ہوں گے تو لازمی ہے کہ ان میں رایوں کا اختلاف ہو۔ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچے۔ بار بار نفس کو ٹھیس لگے۔ ہر آدمی بڑا بننا چاہتا ہے۔ ہر آدمی اپنے اندر یہ سوچ یا ہوا جذبہ رکھتا ہے کہ "میری چلے، دوسرے کی نہ چلے" ایسی حالت میں جب بھی کچھ لوگ جمع ہوں گے تو لازماً آپس میں ٹکراؤ ہوگا۔ کہیں خلاف مزاج بات کو برداشت کرنا ہوگا۔ کہیں تنقید سُننی پڑے گی کہیں اپنی شکست پر صبر کرنا ہوگا۔ کہیں اپنی بے عزتی کو سہنا ہوگا۔ کہیں اپنے مقابلہ میں دوسرے کو ترجیح دینی ہوگی۔ کہیں اجتماعی مصلحت کی خاطر اپنی ذاتی راۓ کو قربان کرنا ہوگا۔ کہیں ایک جائز کریڈٹ سے محرومی پر اپنے کو راضی کرنا پڑے گا۔ غرض بے شمار قسم کی ناخوش گواریاں سامنے آئیں گی۔ ایسی حالت میں اتحادِ عمل پر وہی قائم رہ سکتا ہے جو اپنی "انا" کو ختم کرکے مسلمان بنا ہو۔ جو اپنی ذات کو دفن کر کے اجتماعیت میں شامل ہوا ہو۔ اس کے برعکس جو شخص اللہ کی کبریائی پر ایمان لانے کے باوجود اپنی انا کو اپنے ساتھ لئے ہوۓ کبھی متحدہ جدوجہد پر ٹھہر نہیں سکتا۔ اللہ پر ایمان، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اپنی ذات کی نفی کا نام ہے۔ اور اتحاد میں سب سے زیادہ اسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ متحدہ جدوجہد سب سے بڑی اور یقینی کسوٹی ہے جس پر جانچ کر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ آدمی اپنی ذات کی نفی کرکے اسلام میں داخل ہوا ہے یا اپنی انا کے بت کو اپنے ساتھ لئے ہوۓ ہے۔ جو لوگ اپنی انا کے بت کو توڑ چکے ہوں ان کے لئے کوئی چیز اتحادِ عمل میں مانع نہیں ہوتی۔ اسی لئے اسلام کے محاذ پر جب ایسے لوگ قابلِ لحاظ تعداد میں جمع ہو جائیں تو لازماً وہ کامیاب ہوکر رہتے ہیں۔ آخرت کی جنت بھی ان کے لئے لکھ دی جاتی ہے اور دنیا کا غلبہ بھی (صف ۱۳)۔ مگر جو لوگ اپنی انا کے بت کو لئے ہوۓ ہوں، وہ کبھی متحدہ طاقت نہیں بنتے۔ اور اس طرح وہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کا "قول" حقیقتہً قول بلا فعل تھا۔ ایسے لوگ اللہ کی نظر میں بالکل بے قیمت ہیں۔ خواہ اپنی خوش فہمیوں کی دنیا میں وہ کتنا ہی زیادہ بڑے نظر آتے ہوں۔ ایمان باطل کی کسوٹی جو خدا نے مقرر کی ہے وہ اسلام کے لئے متحدہ عمل ہے۔ کوئی دوسری کسوٹی خواہ بظاہر کتنی ہی بڑی دکھائی دے خدا کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader