Urdu book · اتحادِ ملت

اختلاف سے بچو

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلاف سے بچو "اے مسلمانو! خدا سے ڈرو۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو۔ اور اس میں متفرق نہ ہو۔ آپس میں اختلاف کرنا آگ کے کنارے کھڑا ہونا ہے۔ خدا کے نزدیک وہی لوگ کامیاب ہیں جو خصوصی اہتمام کے ذریعہ ہر حال میں اپنے اندر اتحاد و اتفاق کی فضا کو باقی رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے خداوندی علم کی امانت یہود کو دی گئی تھی۔ مگر وہ تفریق اور اختلاف میں پڑ گئے اور اس کے نتیجہ میں اپنے کو عذاب عظیم کا مستحق بنا لیا۔ ان کے انجام سے ڈرو اور تم بھی انھیں کی طرح نہ ہو جاؤ۔" (آل عمران ۱۰۶۔ ۱۰۲) یہ تفریق و اختلاف جس سے بچنے کا حکم قرآن میں دیا گیا ہے، اس کے بے شمار نقصانات ہیں۔ ان میں سے ایک وہ نقصان ہے جس کو قرآن کی سورہ نمبر ۸ میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: "اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو۔ آپس میں نزاع مت کرو۔ ورنہ تمھارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو۔ یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"۔ انفال۔ ۴۶ اتفاق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اختلاف کی کوئی صورت پیدا نہ ہو۔ انسانوں کے درمیان اختلاف کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ مگر جو لوگ خدا سے ڈرتے ہوں وہ معاملہ کی وضاحت کے بعد، یا تو اپنے اختلاف کو ختم کر دیتے ہیں اور اگر پھر بھی اختلاف باقی ہو تو وہ اس کو اپنے ذہن تک محدود رکھتے ہیں۔ عملی زندگی میں اس کو پھیلا کر معاشرہ کو خراب نہیں کرتے۔ اس کے برعکس جن کے دل خدا کے خوف سے خالی ہوں وہ اس کو اپنے عزت و وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ خواہ کتنے ہی دلائل دئے جائیں، وہ اپنی غلطی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ اختلاف رائے کو عناد کی حد تک جانے سے روکیں اور اس کو باہمی کدورت کا سبب بننے نہ دیں۔ یہی دوسری قسم کا اختلاف ہے جو قوم کو کمزور کر دیتا ہے۔ اب مسلمان آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ جو طاقت دوسروں کو مغلوب کرنے میں کام آتی وہ خود اپنے بھائیوں کو نیچا دکھانے میں برباد ہونے لگتی ہے۔ اس باہمی لڑائی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی دولت مسلمانوں کی جیب سے نکل کر غیر مسلموں کی جیب میں پہنچ جاتی ہے۔ ایک مسلمان پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ مسلمان جو اس کے مخالف بنے ہوئے ہیں وہ اس کا ساتھ دینے کے بجائے اس کی مصیبت پر اور خوش ہوتے ہیں حتیٰ کہ وہ اس کے دشمنوں سے مل جاتے ہیں، خواہ یہ دشمن غیر مسلم کیوں نہ ہو۔ نا اتفاقی کی بنا پر پیدا ہونے والی یہ چیزیں مسلمانوں کی مجموعی طاقت کو اس سے بہت کم کر دیتی ہیں جتنا کہ وہ حقیقت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page