یہ دشمن کا ہتھیار ہے
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
اتحاد کی قیمت بیہقی اور ابن عساکر نے حضرت عروہ ابن زبیر سے روایت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ ذات السلاسل کے لئے ایک دستہ حضرت عمرو بن العاص کی سرداری میں بھیجا۔ یہ جگہ شام کے اطراف میں تھی۔ حضرت عمرو بن العاص جب وہاں پہنچے اور حالات معلوم کئے تو دشمن کی کثرت سے ان کو خوف پیدا ہوا۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیج کر مزید مدد طلب کی۔ آپ نے مہاجرین کو بلایا اور دو سو آدمیوں کا ایک دستہ تیار کیا۔ اس دستہ میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر وغیرہ بھی شامل تھے۔ آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو کو اس دستہ کا امیر مقرر کیا اور حکم دیا کہ فوراً روانہ ہوں اور حضرت عمرو بن العاص سے جاکر مل جائیں۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کا دستہ جب منزل پر پہنچا اور دونوں دستے ساتھ ہوگئے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ دونوں کا امیر کون ہو۔ حضرت عمرو بن العاص نے کہا: میں تم سب کا امیر ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی مدد کے لئے لکھا تھا تم لوگ اس کے مطابق میری مدد کے لئے بھیجے گئے ہو۔ حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ جو مہاجرین آئے تھے انھوں نے اس کو نہیں مانا۔ انھوں نے حضرت عمرو بن العاص سے کہا: تم اپنے ساتھیوں کے امیر ہو اور ابو عبیدہ ہمارے امیر ہیں (بل انت امیر اصحابك وابو عبيدۃ امیر المہاجرین) حضرت عمرو بن العاص اس تقسیم پر راضی نہیں ہوئے۔ انھوں نے اصرار کیا کہ تمھاری حیثیت امدادی فوج کی ہے اور تم لوگ میرا ساتھ دینے کے لئے بھیجے گئے ہو (انما انتم امددت بكم فانا القائد) حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے جب یہ حال دیکھا تو کہا: اے عمو! و ان آخرو عهدى الى رسول الله ص اے عمرو تم پر واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلی اللہ علیہ وسلم آن قال : اذا قدمت علی مجھ کو رخصت کرتے ہوئے جو آخری عہد لیا وہ یہ تھا کہ صاحبك فبثا دعا ولا تختلغا، وانك د الله جب تم اپنے ساتھی کے پاس پہنچو تو دونوں اتفاق کے ساتھ مل کر کام کرنا، باہم اختلاف نہ کرنا۔ پس خدا کی قسم اگر تم ان عصيتني لا تطعتك میری بات نہ مانو گے تب بھی میں تمھاری اطاعت کردوں گا راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد ابو عبیدہ نے امارت عمرو بن العاص کے حوالے کر دی اور ان کی ماتحتی میں کام کرنے پر راضی ہو گئے (فسلّم ابو عبیدۃ الامارة لعمر و بن العاص) البدایہ والنہایہ جلد ۴ اگر دونوں اپنا اپنا اصرار جاری رکھتے تو مسئلہ ختم نہ ہوتا اور جو طاقت دشمن سے مقابلہ کے لئے بھیجی گئی تھی وہ آپس میں لڑ کر فنا ہو جاتی۔ ایسے اختلافی مواقع پر ایک شخص کا جھکنا پوری جماعت کو طاقت در بنا دیتا ہے اور ایک شخص کے نہ جھکنے سے پوری جماعت کمزور ہو جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader