اختلاف کی حد
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
اختلاف کی حد حضرت معاویہ بن ابی سفیان ہجرت سے ۷ سال پہلے پیدا ہوئے اور ۶۰ ھ میں وفات پائی۔ حضرت علی چوتھے خلیفہ مقرر ہوئے تو امیر معاویہ شام کے حاکم تھے۔ اس کے بعد دونوں میں اختلاف ہوا اور باہم زبردست لڑائیاں ہوئیں ۔ امیر معاویہ تقریباً ۲۰ سال تک حکمراں رہے۔ ۲۰ سال شام کے گورنر کی حیثیت سے اور ۲۰ سال تمام اسلامی دنیا کے خلیفہ کی حیثیت سے۔ جس زمانہ میں حضرت علی اور امیر معاویہ کے درمیان اختلافات بہت بڑھے ہوئے تھے، قسطنطنیہ کی عیسائی (رومی) حکومت نے سمجھا کہ یہ وقت مسلم سلطنت پر حملہ کرنے کے لئے سب سے زیادہ موزوں ہے۔ اس نے ایک بڑی فوج جمع کی اور ایران کے شمالی صوبوں پر حملہ کی تیاریاں شروع کردیں ۔ یہ علاقہ اس وقت حضرت علی کی حکومت میں شامل تھا۔ اس نازک موقع پر جب کہ علی و معاویہ میں جنگ چھڑی ہوئی تھی اگر یہ حملہ ہوجاتا تو حضرت علی کے لئے اس کو بچانا مشکل ہوجاتا۔ بڑا ہر د دکھائی دیتا تھا کہ اسلامی خلافت کا ایک وسیع علاقہ کٹ کر عیسائی سلطنت میں شامل ہو جائے گا۔ عیسائی حکمران قسطنطنیہ کے قلعہ میں بیٹھا ہوا تمام خبریں لے رہا تھا۔ وہ اسلامی خلیفہ (حضرت علی) کی مشکلات سے خوب واقف تھا۔ اس کو یقین تھا کہ علی، معاویہ کے لئے حریف کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ ضر در علی کو کمزور کرنے کی عیسائی کوششوں سے خوش ہوں گے اور مزاحمت کرنے والوں میں شامل نہ ہوں گے ۔ اس طرح معاویہ کی غیر جانیداری علی کو زیر کرنے میں نہایت مؤثر ثابت ہوگی اور اس کی مہم آسانی سے کامیابی کے مرحلہ تک پہنچ جائے گی۔ مگر امیر معاویہ ایک اونچے انسان تھے۔ وہ حضرت علی سے اختلاف کے با وجود ان کے معاند نہیں بن گئے تھے۔ وہ اس معاملہ کو اس حد تک لے جانے کے لئے تیار نہ تھے کہ ان دونوں کا باہمی اختلاف اسلامی دنیا میں رومیوں کے دوبارہ داخلہ کا سبب بن جائے۔ انھوں نے جب یہ خبر سنی تو قیصر (قسطنطنیہ کے عیسائی حکمران) کو خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا: اے رومی کہتے ، اگر تو ہمارے آپس کے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر اسلامی خلافت پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو تجھ کو معلوم ہونا چاہیے کہ علی کی قیادت میں جو لشکر تیرے مقابلہ کے لئے نکلے گا ، معاویہ اس لشکر کا ایک ادنی سپاہی ہوگا۔ یہ خط قسطنطنیہ کے عیسائی حکمران کی امیدوں کے عین خلاف تھا۔ اس کو پڑھ کر وہ اتنا گھبرا اٹھا کہ اس نے اسلامی علاقہ پر حملہ کا ارادہ ترک کردیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader