مشورہ پر اصرار نہیں
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
مشورہ پر اصرار نہیں بدر کی لڑائی (۲ھ) سے کچھ پہلے قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ساتھ آدمیوں کی سرکردگی میں شام بھیجا گیا تھا۔ اس تجارتی قافلے میں مکہ کے مردوں اور عورتوں نے اپنا تمام سرمایہ لگا دیا تھا۔ بدر کی لڑائی میں قریش کو مکمل شکست ہوئی۔ تاہم ابو سفیان کو اس میں کامیابی ہوئی کہ وہ تجارتی قافلہ کو ساحلی راستہ سے چلا کر مکہ پہنچ جائیں۔ جنگ کے بعد سار امکہ جوش انتقام سے بھرا ہوا تھا۔ قریش کے ذمہ دار افراد کا ایک اجتماع دار الندوہ میں ہوا۔ اس اجتماع میں متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ تجارتی قافلہ کے شر کا صرف اپنا اصل سرمایہ لے لیں اور منافع کی رقم پوری کی پوری محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف جنگ کی تیاری میں لگا دی جائے۔ منافع کی یہ رقم پچاس ہزار دینار رکھتی جو اس وقت کے لحاظ سے بہت بڑی رقم تھی۔ اب قریش نے زبردست تیاری کی اور شوال سنہ میں مکہ سے نکل کر مدینہ پر حملہ کے لئے روانہ ہوئے۔ اسی جنگ کا نام جنگ احد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ نے صحابہ کو جمع کر کے مشورہ کیا۔ بڑے صحابہ میں سے اکثر کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے۔ مگر نوجوان طبقہ اس کا پر جوش مخالف تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر ہم یہاں ٹھہریں گے تو دشمن اس کو ہماری بزدلی اور کم زوری پر محمول کرے گا۔ اس لئے ہمیں باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہئے۔ عبداللہ بن ابی کی رائے بھی وہی تھی جو اکابر صحابہ کی تھی۔ (سیرۃ ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۷) جن لوگوں کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے، اس کی بڑی وجہ مدینہ کا جغرافیہ تھا جو ایک قدرتی حصار کا کام کرتا تھا۔ مدینہ کا جائے وقوع ایسا تھا کہ اس کے جنوب میں کھجوروں کے گھنے یا غات اس کثرت سے تھے کہ ادھر سے کوئی فوج بستی کے دو پر حملہ نہیں کر سکتی تھی۔ اسی طرح مشرق اور مغرب کے بڑے حصہ میں پہاڑیاں تھیں جو کسی فوجی پیش قدمی کے لئے قدرتی روک کا کام کر رہی تھیں۔ اس لئے کوئی دشمن صرف ایک ہی سمت سے مدینہ پر حملہ کر سکتا تھا۔ اس جغرافی زیشن نے مدینہ کو جنگی اعتبار سے کافی محفوظ شہر بنا دیا تھا۔ گویا مدینہ ایک قسم کا قلعہ تھا۔ شہر سے باہر نکل کر وہ چاروں طرف سے دشمن کی زد میں ہو جاتے تھے جب کہ مدینہ کے اندر صرف ایک طرف سے مقابلہ کرنا تھا ۔ غزوۂ احزاب میں مدینہ کے اسی جائے وقوع سے فائدہ اٹھایا گیا اور اس کی کھلی سمت میں (شمال مغربی رخ پر) خندق کھود کر پورے شہر کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔ بڑے صحابہ کی اکثریت اور عبداللہ بن ابی کی رائے اگر چہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کرنے کی تھی۔ مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader