مال گاڑی کو دیکھ کر
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
جانوروں سے پیچھے جنگلی ہرنوں کو اگر آپ جنگل میں دیکھیں تو وہ ہمیشہ غول کی صورت میں دکھائی دیں گے ۔ ہرن، دوسرے اکثر جانوروں کی طرح، کبھی اکیلا نہیں رہتا ۔ وہ ہمیشہ اپنی جماعت کے ساتھ رہتا ہے۔ ہرن کی زندگی کا مقصد اگر چہ غذا اور پانی کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ مگر جنگل کی دنیا میں ہر وقت چھوٹے جانوروں کو بڑے جانوروں کا ڈر لگا رہتا ہے ۔ ہر جانور کو یہ خطرہ رہتا ہے کہ اس سے بڑا جانور اس کو اپنا شکار نہ بنائے۔ اس لئے جنگل کے جانور الگ الگ نہیں رہتے۔ بلکہ غول کی صورت میں زندگی گزارتے ہیں ۔ وہ ساتھ چلتے ہیں۔ ساتھ بیٹھتے ہیں۔ ساتھ مل کر اپنے سب کام کرتے ہیں ۔ ایسا وہ اس لئے کرتے ہیں کہ کوئی خطرہ پیش آئے تو سب مل کر اس کا مقابلہ کر سکیں۔ وہ نازک موقع پر دشمن کے مقابلہ میں اکیلے نہ رہیں ۔ وحشی جانور اپنی ساری وحشت کے باوجود اپنے تحفظ کی خاطر اکٹھا ہو جاتے ہیں ۔ جنگل کا ایک جانور جانتا ہے کہ تنہا رہنا گویا اپنے آپ کو اس کے لئے چھوڑ دینا ہے کہ دشمن جب بھی چاہے اس کو اپنا شکار بنا لے ۔ اس کے برعکس نظم اور اتحاد دشمن کے خلاف مضبوط دیوار ہیں۔ قدرت نے ہر جانور کو یہ سبق فطری طور پر سکھا دیا ہے۔ وہ اس سبق کو پوری طرح اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ وہ جنگل کی غیر محفوظ دنیا میں پوری حقیقت پسندی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے ۔ انسان بھی اس حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ جس بات کو جانور صرف جبلی طور پر جانتے ہیں وہ انسان کو عقلی اور شعوری طور پر معلوم ہے ۔ مگر بہت کم مثالیں ملیں گی جب کہ انسان نے اس واقفیت کو عملی طور پر پوری طرح استعمال کیا ہو۔ وہ اکثر اس معاملہ میں ناکام ثابت ہوتا ہے۔ انسان، انسان ہونے کے باوجود جنگل کے وحشی جانوروں سے پیچھے ہے ۔ انسان کیوں متحد نہیں رہ پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اتحاد ہر شخص سے ایک قربانی مانگتا ہے۔ یہ قربانی کہ فرد اپنی انفرادیت کو اجتماع کے حوالے کر دے۔ آدمی اپنی ذات کو اہمیت دینے کے بجائے پورے مجموعہ کو اہمیت دینے لگے۔ یہ انا کی قربانی ہے اور انا کی قربانی کسی آدمی کے لئے سب سے مشکل قربانی ہے۔ آدمی جان کو قربان کر سکتا ہے مگر وہ اپنی انا کو دوسرے کے حوالے کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ انسان کی یہی کمزوری ہے جو ہمیشہ اتحاد واجتماع کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے۔ جانور اس معنی میں اپنی کوئی انا نہیں رکھتے۔ کوئی چیز ان کے لئے عزت کا سوال نہیں بنتی، یہی وجہ ہے کہ وہ نہایت آسانی کے ساتھ متحد ہو جاتے ہیں۔ اتحاد کا راز بے انا ہونا ہے۔ جہاں اتحاد نہ ہو سمجھ لیجئے کہ وہاں بے انا انسانوں کا پتہ نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader