رسی کا سبق
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
رسی کا سبق ایک شخص کے دس لڑکے تھے۔ یہ سب لڑکے تندرست اور ہوشیار تھے اور مل جل کر رہتے تھے۔ اس کی وجہ سے ہر جگہ ان کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ ان کا ہر کام آسانی سے ہو جاتا تھا ۔ کوئی شخص ان کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ اس خاندان کا اتحاد اور اس کی طاقت لوگوں کے درمیان ضرب المثل بن گئی تھی۔ لڑکوں کا باپ بوڑھا ہو کر مرض الموت میں مبتلا ہوا تو اس کو سب سے زیادہ اندیشہ یہ ہوا کہ اس کے بعد اس کے لڑکے باہمی اختلاف کا شکار ہو کر الگ الگ نہ ہو جائیں اور اس طرح اپنے آپ کو کمزور کر لیں۔ سوچتے سوچتے ایک تدبیر اس کے ذہن میں آئی ۔ اس نے ایک روز تمام لڑکوں کو بلایا اور کہا کہ دیکھو اب میں بہت جلد مر جاؤں گا۔ میں تم لوگوں کو ایک سبق دینا چاہتا ہوں۔ اگر تم میرے اس سبق کو یاد رکھو گے تو زندگی میں کبھی ناکام نہ ہو گے۔ اس کے بعد اس نے ایک موٹی رسی نکالی اور کہا کہ اس کو توڑو۔ ہر ایک نے باری باری کوشش کی۔ مگر پورا زور لگانے کے بعد بھی کوئی اسے توڑ نہ سکا۔ اس کے بعد سب نے مل کر اس کو توڑنے کی کوشش کی۔ مگر اب بھی وہ کامیاب نہ ہوئے ۔ اب بوڑھے باپ نے یہ کیا کہ رسی کو کھولا تو اس کی دس لٹریاں الگ الگ ہو گئیں۔ اس نے ایک ایک لڑی ہر لڑکے کو دے کر کہا کہ اسے توڑ دو۔ اب معاملہ آسان تھا۔ ہر لڑکے نے معمولی کوشش سے اپنی اپنی رسی توڑ ڈالی۔ یکجا لڑیوں کو کوئی توڑ نہ سکا ۔ مگر منتشر لڑیوں کو ہر ایک نے توڑ کر دو ٹکڑے کر دیا۔ اس تجربہ کے بعد باپ اپنے بیٹوں سے مخاطب ہوا۔ اس نے کہا: دیکھو، جب تک رسی کی دس لڑیاں ایک ساتھ ملی ہوئی تھیں، تم لوگ اسے توڑنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مگر وہی رسی جب الگ لڑیوں میں بٹ گئی تو تم میں سے ہر شخص نے بآسانی اسے توڑ ڈالا۔ اسی مثال سے تم اپنا معاملہ سمجھ سکتے ہو۔ تم لوگ دس بھائی ہو۔ گویا یہ رسی کی دس لڑیاں ہیں جو اب تک ایک ساتھ ملی رہی ہیں۔ اس لئے تم لوگ ہر جگہ طاقت ور ثابت ہوتے رہے۔ کوئی تمھارا کچھ بگاڑ نہ سکا۔ اگر تم لوگ اسی طرح ایک ساتھ ملے رہو گے تو ہرگز کوئی تم کو توڑ نہ سکے گا۔ اور اگر تم الگ الگ ہوگئے تو تمھارے دشمن تم کو اسی طرح ایک ایک کر کے توڑ ڈالیں گے جس طرح تم نے رسی کی لڑیوں کو الگ الگ ہونے کے بعد توڑ دیا۔ ایک خاندان کا معاملہ ہو یا ایک قوم کا، سب کے لئے طاقت کا سب سے بڑا راز اتحاد ہے۔ وہی تعداد جو اختلاف کے وقت دوسروں کے مقابلہ میں بے زور دکھائی دیتی ہے وہی تعداد اگر متحد ہو جائے تو وہ اتنی طاقت ور ہو جائے گی کہ اس کا حریف اس پر ہاتھ اٹھانے کی ہمت ہی نہ کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader