Urdu book · اظہارِ دین

مذہب اور عقلیات

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

پيچھا کر رہا ہے۔ زندگی کے مسائل سمٹ کر بس سیلاب کے گرد جمع ہوگئے ، اور چند دنوں کے لیے شہر میں قیامت کا منظر دکھائی دینے لگا۔ (قرآن کا مطلوب انسان، صفحہ 61) فطرت کا یہ واقعہ میرے لیے قیامت کی یاد دہانی کے ہم معنی تھا۔ یہ گویا، بڑی قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت تھی جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اس واقعے کو دیکھ کر جو تاثر میرے اوپر ہوا، وہ میری پوری زندگی پر چھا گیا۔ اس کے بعد میری تقریروں اور تحریروں میں انذار آخرت کا پہلو نمایاں وصف کے طور پر شامل ہو گیا۔ میرے استاد مولانا امین احسن اصلاحی (وفات 1998) سے ایک شخص نے پوچھا کہ قرآن کا خلاصہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ سرگذشتِ انذار۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات بلاشبہ درست ہے، اور جو لوگ میری تقریر اور تحریر سے واقف ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میری تقریر اور تحریر میں یہی اندازِ غالب نظر آتا ہے۔ اسی طرح میری زندگی میں ایک اور واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے نے میری تحریر میں سائنسی اسلوب کو گہرائی کے ساتھ شامل کر دیا۔ فروری 1955 کا واقعہ ہے۔ لکھنؤ کے امین الدولہ پارک میں جماعتِ اسلامی ہند کے زیرِ اہتمام ایک اجتماع ہوا۔ اس موقع پر اسلام کے عقلی اثبات پر راقم الحروف کی ایک تقرير ہوئی۔ تقرير کے بعد جب اعلان کیا گیا کہ وہ چھپی ہوئی صورت میں یہاں بک اسٹال پر موجود ہے، تو انسانوں کا ایک ہجوم اُس کو لینے کے لیے اسٹال پر ٹوٹ پڑا۔ تقریر کے مطبوعہ نسخے ہاٹ کیک (hot cake) کی طرح فروخت ہوگئے۔ بعد کو یہ تقریر پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوئی۔ اردو میں اُس کا نام تھا ”نئے عہد کے دروازے پر“، ہندی میں ”نو یک کے پرولیش ڈوار پر“ اور انگریزی میں: On the Threshold of a New Era اس مقالے کی ترتیب کے دوران میں نے جو مطالعہ کیا، اُس سے دعوت کا ایک پہلو زیادہ واضح ہو کر سامنے آیا، وہ یہ کہ جدید سائنسی دریافتوں نے جو نیا مواد (data) فراہم کیا ہے، وہ ہم کو موقع دیتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page