Urdu book · اظہارِ دین

مذہب اور عقلیات

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ ہم زیادہ مدلل اور مؤثر انداز میں دعوتِ حق کا کام کر سکیں۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو سائنس گویا کہ اسلام کا علمِ کلام (theology) ہے۔ سائنسی دریافتوں نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ حق کی دعوت کو ایسے اسلوب میں پیش کیا جائے، جو جدید انسان کے لیے قول بلیغ (4:63) کے ہم معنی بن جائے۔ اسی زمانے میں مجھ پر قرآن کی ایک آیت کا مفہوم زیادہ واضح انداز میں کھلا۔ یہ آیت قرآن کی سورہ حم السجدہ میں ہے، مگر عجیب بات ہے کہ پچھلے زمانے میں قرآن کی تفسیر میں کثیر تعداد میں لکھی گئیں، لیکن اِس آیت کی گہری معنویت مفسرین سے اوجھل رہی۔ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ” عنقریب لوگوں کو ہم دکھائیں گے اپنی نشانیاں، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر یہ کھل جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے“ (41:53)۔ قرآن کی اِس آیت میں دراصل اُس دور کی پیشین گوئی ہے جس کو جدید سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ جدید سائنس میں فطرت کو مطالعے کا موضوع بنایا گیا۔ یہ فطرت پوری کی پوری، خدا کی تخلیق ہے۔ اِس تخلیق کے اندر خالق کی نشانیاں (signs of God) بے شمار تعداد میں موجود تھیں، مگر وہ مخفی انداز میں تھیں۔ جدید سائنس (modern science) نے ان نشانیوں کو کھولا، یہاں تک کہ یہ نشانیاں انسانی معلومات کے دائرے میں آگئیں۔ فطرت کی ان نشانیوں کے دو پہلو تھے۔ ایک، اُن کا ظہور۔ اور دوسرے، تبیینِ حق کے لیے اُن کا استعمال۔ اِس معاملے میں پہلا کام سائنس دانوں کو کرنا تھا۔ انھوں نے غیر معمولی کوشش کے ذریعے اس کام کو بھر پور طور پر انجام دے دیا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی، انھیں سائنسی دریافتوں کی صدی ہے۔ یہ دریافتیں کتابوں کی صورت میں چھپ کر ہر جگہ پھیل گئیں۔ اس کے بعد اس سلسلے میں دوسرا کام یہ تھا کہ مسلم علما اور اہل علم ان معلومات سے واقفیت حاصل کریں اور مطلوب علمی انداز میں یہ بتائیں کہ یہ معلومات کس طرح طرح اسلامی عقائد کے لیے استدلال کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ قرآن کی پیشگی خبر کے باوجود دورِ جدید میں اٹھنے والے مسلم علما اور اہل علم اِس جدید امکان سے بے خبر رہے، اور نتیجتاً وہ اُس کو تبیین حق کے لیے استعمال بھی نہ کر سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page