Urdu book · اظہارِ دین

مذہب اور عقلیات

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں خواب کو نبوت کا چھیا لیسواں درجہ بتایا گیا ہے، یعنی ختم نبوت کے بعد بھی الہامِ خداوندی کا ایک درجہ باقی ہے جس کے ذریعے خدا اپنے بندوں کو خصوصی رہنمائی دیتا رہتا ہے۔ یہ خواب کا ذریعہ ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ مجھ پر بہت سی باتیں خواب کے ذریعے کھلیں۔ یہ بات بھی مجھ پر خواب کے ذریعہ واضح ہوئی کہ تبیین حق کے اس اہم کام کے لیے مجھ کو اٹھنا ہے، اپنے تمام تجربہ کے باوجود اللہ کے بھروسے پر مجھ کو یہ کام انجام دینا ہے۔ اسی ذیل کا ایک تجربہ وہ ہے جو گویا کہ مجھے بین النوم والیقظہ پیش آیا: ستمبر 1963ء کی 21 تاریخ تھی۔ راقم الحروف ندوہ (لکھنؤ) کی مسجد میں تھا اور ظہر کی سنتیں پڑھ کر جماعت کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ذہن میں یہ خیال گھوم رہا تھا کہ اسلام کے تعارف کے لیے آج ایک ایسی کتاب کی ضرورت ہے جو وقت کی زبان اور اسلوب میں لکھی گئی ہو اور جدید انسان کو مطالعہ کے لیے دی جا سکے۔ ”کاش اللہ تعالیٰ مجھے اس کتاب کے لکھنے کی توفیق دے “۔ یہ تمنا بے ساختہ دعا کی شکل میں میری زبان سے نکلی اور اس کے بعد یکا یک یہ انگریزی لفظ میری زبان پر تھا: God Arises۔ یہ گویا کتاب کا نام تھا جو اچانک میرے ذہن میں وارد ہوا۔ اس سے پہلے کبھی یہ فقرہ میرے ذہن میں نہیں آیا تھا، حتی کہ کتاب کے نام کی حیثیت سے اس کی معنویت بھی اس وقت پوری طرح مجھ پر واضح نہ تھی۔ شام کو عصر کی نماز کے بعد میں حسب معمول نریندر دیو لائبریری گیا جو ندوہ کے قریب دریائے گومتی کے کنارے واقع ہے۔ وہاں ویبسٹر (Webster) کی لغت میں لفظ arises کے استعمالات دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ لفظ بائبل کی ایک آیت میں استعمال ہوا ہے۔ پورا فقرہ یہ ہے: Let God arise, let His enemies be scattered, Let them also that hate Him flee before Him, As smoke is driven away, so drive them away; As wax melteth before the fire, so let the Wicked perish at the presence of God. (Psalms 68:1-2)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page