Urdu book · اظہارِ دین

مذہب اور عقلیات

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

فرمایا: أنتَ یا علي، أنتَ یا علي۔ عالمِ تصور میں، خدا کے رسول کا یہ جواب پا کر میرا حوصلہ بڑھا، اور میں نے طے کر لیا کہ مجھے یہ کام انجام دینا ہے۔ میرا سہارا صرف ایک احساس تھا، جو حضرت مسیح کے الفاظ میں یہ تھا انسان سے تو یہ کام نہیں ہو سکتا، مگر خدا سے ہو سکتا ہے۔ میں نے جب یہ فیصلہ کیا کہ مجھے سائنسی دریافتوں کی مدد سے جدید اسلامی لٹریچر تیار کرنا ہے، تو یہ میرے لیے کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا۔ یہ میرے جیسے انسان کے لیے ہمالیہ پہاڑ کو اپنے سر پر اٹھانے سے زیادہ مشکل تھا۔ اس مقصد کے لیے مجھے انگریزی زبان میں بھر پور قدرت حاصل کرنا تھا۔ جدید افکار (modern thought) کو سمجھنے کے لیے مختلف علوم کو گہرائی کے ساتھ پڑھنا تھا۔ جدید الحاد کا موقف کیا ہے، اس کو براہِ راست مطالعے کے ذریعے جاننا تھا۔ اُس زمانے میں، میں نے مختلف شہروں کے سفر کیے۔ مختلف شخصیتوں سے ملاقاتیں کیں۔ مختلف لائبریریوں سے کتابیں حاصل کیں۔ اٗس زمانے میں میری دیوانگی کا عالم یہ تھا کہ میں ہر وقت پڑھتا رہتا تھا یہاں تک کہ راستہ چلتے ہوئے کتاب میرے ہاتھ میں ہوتی تھی اور میں اس کو کھول کر پڑھتا رہتا تھا۔ میری ماں زیب النسا (وفات 1985) اکثر یہ کہتی تھیں کہ یہ شخص کسی نہ کسی دن سڑک پر چلتے ہوئے کسی گاڑی سے ٹکرا جائے گا اور سڑک ہی پر اس کی موت واقع ہو جائے گی۔ میرے اس دیوانہ وار مطالعے کی کسی نے بھی حوصلہ افزائی نہیں کی، لیکن میں ہر چیز سے بے پروا ہو کر اپنے کام میں لگا رہا۔ آزادی ہند (1947) کے بارے میں ایک کتاب ہے جو دو مصنفین نے مشترک طور پر لکھی تھی۔ ان میں سے ایک شخص برطانیہ کا تھا، اور دوسرا فرانس کا۔ اس کتاب کا نام ہے۔ آدھی رات کی آزادی (Freedom at Midnight)۔ اپنی اس کتاب کی تیاری میں مذکورہ دونوں مصنفین نے بے شمار چیزوں کا مطالعہ کیا۔ کتاب کے چھپنے کے بعد ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا: We lived like hermits, and we produced 'Freedom at Midnight'

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page