Urdu book · اظہارِ دین

مذہب اور عقلیات

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام پر عصری اسلوب (modern idiom) میں کتاب تیار کرنے کے لیے میرا بھی یہی حال ہوا۔ مذکورہ مثال کو لیتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ ۔ میں نے رہبان کی مانند زندگی گزاری، اور میں نے خدا کے موضوع پر اپنی کتاب تیار کی: I lived like hermit, and I produced my book on God. جیسا کہ عرض کیا گیا، موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے فطرت کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، وہ گویا کہ خدائی نشانیاں ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ آفاق اور انفس میں آیات الہی کے ظہور کے ہم معنی ہیں (41:53) ۔ اس سلسلے میں اپنے مطالعے کے نتائج کو میں نے اپنی مختلف کتابوں میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہاں مختصر طور پر چند مثالیں درج کی جاتی ہیں: 1۔ قدیم فلاسفہ اپنے فلسفیانہ فریم ورک کی بنا پر شخصی خدا (personal God) کے طور پر خدا کا ادراک نہیں کر پاتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے خدا کو غیر شخصی خدا (impersonal God) بتایا۔ مگر غیر شخصی خدا صرف ایک خیالی خدا تھا، وہ (rays cosmic) یا قوت کشش (gravity) کے مانند تھا۔ خدا کے عقیدے کی حیثیت سے اس کی کوئی معنویت نہ تھی۔ لیکن سائنس کی تحقیقات کے بعد ایک نئی دنیا انسان کے سامنے آئی، ایک ایسی دنیا جو لازمی طور پر یہ تقاضا کر رہی تھی کہ کائنات کے وجود و بقا کے پیچھے ایک زندہ شعور ہے، نہ کہ صرف مادی عمل۔ اس طرح سائنس دانوں نے خدا کا نام لیے بغیر، خدا جیسی ایک ہستی کا اعتراف کر لیا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے درج ذیل کتاب کا مطالعہ کیجیے: Sir Fred Hoyle, The Intelligent Universe (1983) اس طرح ، غیر شخصی خدا (Impersonal God) کے فلسفیانہ قیاس کے لیے کوئی علمی بنیاد (Scientific base) باقی نہ رہی۔ سائنس کی نئی دریافتوں نے بتایا کہ خالص علمی اور عقلی اعتبار سے شخصی خدا (personal God) کا تصور زیادہ قابل فہم ہے۔ 2۔ یہی معاملہ علت العلل (cause of the causes) کا ہے۔ قدیم متکلمین نے درست

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page