مذہب اور عقلیات
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ قدیم سائنسی نظریہ بظاہر شرک کے عقیدے کی موافقت کر رہا تھا۔ لیکن سائنس داں اس قسم کے چار نظریے پر مطمئن نہ تھے۔ ان کو نظر آتا تھا کہ کائنات میں بہت زیادہ ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی ہے۔ ایسی ہم آہنگ کائنات میں چار طاقتوں کا نظریہ انھیں بے جوڑ نظر آتا تھا۔ چنانچہ سائنس دانوں کی تحقیق جاری رہی، یہاں تک کہ یہ ثابت ہو گیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقت صرف ایک ہے۔ اس دریافت کو سنگل سٹرنگ تھیوری (single string theory) کہا جاتا ہے۔ اس جدید سائنسی دریافت نے شرک (polytheism) کے نظریے کا علمی طور پر خاتمہ کر دیا۔ اب علم اور عقل کی بنیاد صرف توحید (monotheism) کے نظریے کو حاصل ہے۔ اب توحید کا نظریہ ایک ثابت شدہ سائنسی نظریے کی حیثیت رکھتا ہے، نہ کہ سادہ طور پر صرف ایک مذہبی عقیدہ۔ 4۔ قدیم زمانے میں علماءِ الہیات، خدا کے وجود کو اس طرح ثابت کرتے تھے کہ — کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ہر چیز میں کامل ڈیزائن پایا جاتا ہے۔ اور جہاں ڈیزائن (design) ہو، وہاں ڈیزائنر (designer) کا وجود بھی اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے: When there is a design, there is a designer. and when the designer is proved, God is also proved. یہ استدلال خالص منطقی اعتبار سے ایک درست استدلال تھا، لیکن قدیم زمانے میں سمجھا جاتا تھا کہ یہ ثانوی (secondary) درجے کا استدلال ہے۔ وہ اول درجے کا استدلال نہیں۔ کیوں کہ یہ استدلال ایک استنباط (inference) پر مبنی تھا، نہ کہ براہِ راست مشاہدے کی بنیاد پر۔ سائنسی تحقیق جب تک عالم کبیر (macro world) تک محدود تھی، اُس وقت تک یہ استدلال بظاہر درست نظر آتا تھا۔ کیوں کہ اُس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ تمام حقیقی چیزیں اپنا مادی جسم رکھتی ہیں، اس بنا پر وہ قابل مشاہدہ (visible) ہیں۔ گویا کہ جو چیز دوربین یا خورد بین کے ذریعے نہ دیکھی جا سکتی ہو، وہ کوئی حقیقی چیز بھی نہیں۔ لیکن بیسویں صدی میں سائنس کی تحقیقات، عالم کبیر سے گزر کر عالم صغیر (microworld) تک پہنچ گئیں۔ یہ سائنس کی دنیا میں ایک عظیم انقلاب تھا۔ اس کے بعد یہ ثابت ہوا کہ یہاں ایسی چیز بھی موجود ہو سکتی ہے، جو نہ خورد بین سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader