اظہارِ دین
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
دیکھی جاسکے اور نہ دوربین سے۔ اس طرح کی چیزوں کو مشاہداتی ذرائع سے معلوم نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی چیز کے وجود کو صرف استنباط (inference) کے ذرائع سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ سائنس کی اس ترقی کے بعد یہ ہوا کہ معقول استدلال (valid argument) کا قدیم تصور ختم ہو گیا۔ اب علمی طور پر یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال (inferential argument) بھی اتناہی معقول (valid) ہے، جتنا کہ براہ راست مشاہدے کی بنیاد پر قائم ہوا استدلال۔ اسلام اور عقل اسلام اور عقل ایک قدیم موضوع ہے۔ اس موضوع پر بہت سی چھوٹی اور بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مسلمانوں کے علمی ذخیرے میں اس سلسلے میں جو کتا بیں موجود ہیں، اُن میں حسب ذیل چار کتابیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں: 1- قواعدُ الْأَحْکامِ فِي إصْلاحِ الأَنَامِ (دو جلدیں) عزالدین بن عبدالسلام (وفات 1262ء) 2- إِعْلامُ الْمُوَقَّعِينَ (چار جلدیں) ابن القیم الجوزيہ (وفات 1350ء) 3- المُوَافَقَاتُ فِي أُصُولِ الشَّرِيعَةِ (چار جلدیں) ابواسحاق الشاطبی (وفات 1388ء) 4- حُجَّةُ اللَّہِ الْبَالِغَةُ (دو جلدیں) شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات 1763ء) یہ چاروں کتابیں اپنے موضوع پر بلا شبہ نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ تاہم ان میں ایک مشترک کمی یہ ہے کہ وہ سب جدید دورِ عقل (modern age of reason) سے پہلے لکھی گئی ہیں۔ قدیم زمانے میں عقلی غور وفکر مبنی بر قیاس ہوتا تھا، موجودہ زمانے میں عقلی غور وفکر مبنی بر سائنس ہوتا ہے۔ اس طرح اب تعقل کا فریم ورک بدل گیا ہے۔ اب اسلامی عقلیات وہی ہے جو سائنسی فریم ورک کی بنیاد پر تیار کی جائے۔ عقل (reason) کیا ہے۔ علمی تعریف کے مطابق، عقل اُس ذہنی صلاحیت کا نام ہے جس کے مقدمات سے نتائج اخذ کیے جائیں۔ پچھلے زمانے میں یہ مقدمات قیاسی ہوا کرتے تھے۔ اب ہم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader