دور سائنس اور مذہب
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلے جو پیغمبر آئے، اُن کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے پیغام کی صداقت کے طور پر مذکورہ قسم کے معجزے دکھاتے رہے۔ لیکن پیغمبر اسلام، جوسلسلہ نبوت کی آخری کڑی تھے، ان کے بعد خارق عادت معجزات کا طریقہ ختم کر دیا گیا (17:59)۔ پیغمبر اسلام کے بعد کسی پیغمبر کا آنا موقوف ہو گیا، اور اسی کے ساتھ خارق عادات معجزات پیش کرنے کا سلسلہ بھی۔ اب پیغمبرانہ دعوت غیر پیغمبر داعیوں کے ذریعے دنیا میں جاری ہے، لیکن اب کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک طرف یہ ہوا کہ دین حق اپنی اصل حالت میں پوری طرح محفوظ ہو گیا، یہاں تک کہ اب اُس میں کسی تحریف یا تبدیلی کا امکان نہیں۔ اب پیغمبرانہ مذہب کا متن بھی محفوظ ہے اور وہ زبان بھی محفوظ ہے جس میں یہ متن اولاً نازل ہوا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ معجزے کا بدل کیا ہے۔ پہلے دعوت کی صداقت معجزے کے ذریعے محقق کی جاتی تھی، اب دعوت کی صداقت کو محقق کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ یہ ذریعہ جدید سائنس ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس، قدیم معجزے کا بدل ہے۔ آج سائنس ٹھیک وہی استدلالی رول انجام دے رہی ہے، جو قدیم زمانے میں معجزات کے ذریعے انجام پاتا تھا۔ مذہب کے حق میں استدلال کے یہ دونوں دُور قرآن میں واضح طور پر بتا دیے گئے ہیں۔ پہلے دُور استدلال کے بارے میں قرآن میں یہ آیت ہے: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ (57:25)۔ یعنی، ہم نے پیغمبروں کو اپنی صداقت کے ثبوت کے لیے معجزے دئیے۔ دوسرے دُور استدلال کو قرآن میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں ہوا۔ آپ کے ظہور کے تقریباً ایک ہزار سال بعد جدید سائنس ظاہر ہوئی۔ جدید سائنس کا یہ ظہور محض اتفاق نہ تھا، وہ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب کا ایک براہِ راست نتیجہ تھا۔ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ اُس نے پہلی بار شرک کے غلبے کو ختم کر دیا۔ شرک کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader