دور سائنس اور مذہب
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
غلبے کے خاتمے کے بعد تاریخ میں ایک نیا پر اسس شروع ہوا۔ اس پر اسس کے نقطہ انتہا کا دوسرا نام سائنس ہے۔ شرک کیا ہے۔ شرک دراصل نیچرورشپ (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ انسان نے قدیم زمانے میں فطرت کے مظاہر کو پرستش کا موضوع بنا دیا تھا۔ اس طرح شرک، نیچر کی تحقیق اور تسخیر کے عمل کے سلسلے میں ایک قسم کا ذہنی مانع (mental block) بن گیا تھا۔ کیوں کہ جس چیز کو آپ پرستش کا موضوع بنا لیں، اُس کو عین اُسی وقت آپ تحقیق کا موضوع نہیں بنا سکتے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے انقلاب کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا۔ انسان نیچر کی تحقیق میں مصروف ہو گیا۔ یہ تحقیق مسلسل جاری رہی، یہاں تک کہ وہ دریافتیں شروع ہوئیں، جن کو سائنسی دریافتیں کہا جاتا ہے۔ فطرت کے اندر چھپے ہوئے راز معلوم واقعات بن کر سامنے آنے لگے۔ یہ عین وہی چیز تھی جس کو قرآن میں آفاق اور انفس میں آیات کے ظہور سے تعبیر کیا گیا تھا۔ جدید سائنس دراصل نیچرل سائنس کا دوسرا نام ہے، اور یہ بلاشبہ قرآن کی پیشین گوئی کا جواب بن کر ظاہر ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جدید سائنس قدیم طرز کے معجزات کا بدل ہے۔ جدید سائنس، دین حق کا علم کلام (Theology) ہے۔ جدید سائنس اُس دین کو علم انسانی کے معیار پر ثابت شدہ بنا رہی ہے، جس کو قدیم زمانے میں خارق عادت معجزات کے ذریعے ثابت شدہ بنایا جاتا تھا۔ واضح ہو کہ جدید سائنس کے دو پہلو ہیں۔ ایک نظریاتی سائنس (theoretical science) اور دوسرے، ٹکنکل سائنس (technical science)۔ نظریاتی سائنس، جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے حقائق کون یا حقائق کائنات کو دریافت کر رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں، ٹکنکل سائنس اس کے عملی پہلو کا نام ہے۔ ٹکنکل سائنس کے ذریعے جدید مشینی تہذیب وجود میں آئی ہے۔ اس مقالے میں ہماری بحث ٹکنکل سائنس سے نہیں ہے، بلکہ نظریاتی سائنس سے ہے۔ موجودہ زمانے میں نظریاتی سائنس کا ایک مشہور سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) ہے۔ اس موضوع پر اسٹیفن ہاکنگ کی کئی کتابیں چھپ کر شائع ہو چکی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader