Urdu book · اظہارِ دین

حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

بیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں جب زمین کی عمر دریافت کی گئی تو ارتقا پسند علما کو محسوس ہوا کہ اُن کا نظریہ موجودہ زمین کی نسبت سے قابل عمل ہی نہیں ہے۔ اب انھوں نے قدیم نظریہ ارتقا میں ایک اور تصور کا اضافہ کیا۔ انھوں نے یہ نظریہ قائم کیا کہ زندگی کی ابتدائی صورت زمین کے سوا کسی اور سیارہ (planet) پر ظہور میں آئی ، پھر وہاں سے سفر کر کے وہ زمین پر پہنچی اور زندگی کا اگلا تر قیاتی عمل موجودہ زمین پر پیش آیا۔ اس نظریے کو اصطلاحی طور پر پینس پرمیا(panspermia) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک نئی دوڑ شروع ہوئی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد خلائی سائنس (space science) کا زمانہ آ گیا۔ اسی کے ساتھ الیکٹرانک دوربینیں ایجاد ہو گئیں ۔ چنانچہ ایسے خلائی راکٹ بنائے گئے جن پر طاقت ور الیکٹرانک دوربینیں نصب تھیں ۔ یہ راکٹ زمین سے اوپر خلا میں بھیجے گئے۔ زمین سے کافی بلندی پر گردش کرتے ہوئے انھوں نے کائنات کے بعید ترین حصوں کے فوٹو لیے اور ان کو زمین پر بھیجا۔ ان تصویروں کو کمپیوٹر پر محفوظ کر لیا گیا۔ مگر تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ ہماری زمین کے سوا کہیں بھی کوئی دوسرا سیارہ ایسا موجود نہیں ہے جہاں زندگی جیسی چیز نشوونما پا سکے ۔ اس طرح پینس پرمیا کا نظریہ عملی طور پر ختم ہو گیا۔ اب یہ سوال تھا کہ زمین کی محدودیت کے اندر مفروضہ ارتقائی عمل کس طرح وقوع میں آیا۔ اس سوال کو حل کرنے کے لیے دوبارہ ایک نئی تحقیق شروع ہوئی ۔ اس تحقیق میں کئی اعلیٰ سائنس داں شامل تھے ۔ اب اس تحقیق کے نتائج امریکا کے مشہور جنرل نیچر (Nature) میں شائع کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (13 فروری 2009) میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ نظریہ ارتقا کے بارے میں اس قسم کی تحقیق جرمنی اور کینیڈا، وغیرہ میں بھی ہوئی۔ اس تحقیق کے نتائج مجلہ سائنس (Science) کے شمارہ 13 فروری 2009 میں شائع ہوئے ہیں۔ ارتقا کے بارے میں نئی ریسرچ ارتقا کے اصل سوالات کو حل نہیں کرتی۔ وہ صرف یہ کرتی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page